خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 202 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 202

خطبات ناصر جلد نهم ۲۰۲ خطبہ جمعہ ۲۴ / جولائی ۱۹۸۱ء ہو گے تو خدا تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے بچ جاؤ گے۔اسلام نے انسان کے سامنے یہ تصور پیش کیا ہے کہ اگر تمہارے اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہوجائیں گے۔تو تم اس کے غضب اور اس کے عذاب سے بچ جاؤ گے اور قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اعمالِ صالحہ کی قبولیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھکتے ہوئے اس سے دعا ئیں کریں اور اس کے فضل اور اس کی رحمت کو جذب کرنے والے ہوں۔اس کے نتیجہ میں وہ جنہیں اعمالِ صالحہ کہا جاتا ہے، قبول ہو جاتے ہیں۔تب انسان اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ جاتا ہے۔اس کے پیار کو حاصل کرنے لگتا ہے اور اس کی رضا کی جنتوں کا وارث بن جاتا ہے۔اسی لئے جب یہ ساری عبادتیں جن کا تعلق اعمالِ صالحہ سے ہے وہ اپنے اختتام تک پہنچ رہی ہوتی ہیں یعنی تیسرا، اب جو تیسری تہائی تھی رمضان کی وہ آج شروع ہو گئی۔اکیسواں روزہ ہے تو ان دنوں میں روزے تو رکھنے ہی ہیں روزے رکھنے والوں نے جن پر فرض ہوئے ہیں لیکن خاص طور پر زور دے دیا دعاؤں پر اور لیلتہ القدر جو دعاؤں کی قبولیت کا ایک وقت ہے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا زیادہ تر پانے والے آخری عشرہ میں پائیں گے اس میں اسے تلاش کرو۔دعاؤں سے ہی تلاش کرنا ہے نالیلتہ القدر کو کیونکہ اس کا تعلق دعاؤں کی قبولیت کے ساتھ ہے۔اس کا تعلق خیرات کی تقسیم کے ساتھ نہیں۔اس کا تعلق انسان کی روح کا پانی کی طرح آستانہ الہی پر بہہ جانے کے ساتھ ہے۔تو جہاں پہلے میں دن رمضان کے بھی دعاؤں کے ہیں وہاں یہ دس دن آخری جو ہیں یہ خاص طور پر دعاؤں کے ہیں۔قرآن کریم نے میں نے پچھلے چند ہفتوں میں ہی یہ بیان کیا ہے اب مختصر کروں گا۔ایک تو یہ اعلان کیا۔میرے ساتھ تعلق پیدا کرنا چاہتے ہو تو مجھے پانے کے لئے تمہیں راکٹ میں بیٹھ کے چاند پہ جانے کی ضرورت نہیں یا کسی اور ستارے یا ساتویں آسمان تک پہنچنے کی ضرورت نہیں۔إذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيب (البقرة : ۱۸۷) میں تمہارے پاس ہوں لیکن پاس ہوتے ہوئے بھی دور ہوں - أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرۃ: ۱۸۷) جو مجھے اپنے پاس سمجھے گا میں تو پاس ہوں لیکن انسانوں میں سے جو مجھے اپنے پاس سمجھے گا اور پاس سمجھنے کے نتیجہ میں اس کی