خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 188 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 188

خطبات ناصر جلد نهم ۱۸۸ خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۸۱ء اور بارہویں یہ معاشرہ ہے نا ہر قسم کے لوگ ہیں۔بارہویں یہ ضروری ہے کہ پوری استقامت اور استقلال جیسے صبر کے ایک معنی یہ بھی ہیں۔پوری استقامت اور استقلال سے یہ اتباع ہو۔اتَّبِعُ مَا يُوحَى إِلَى مِنْ زَبي (الاعراف: ۲۰۴) ہے نا۔جو وحی الہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہماری خاطر اور کامل تعلیم آپ نے ہمارے ہاتھ میں دی قرآن کریم کی شکل میں ایک کامل شریعت آگئی - اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة : ۴) خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے کے لئے ضروری ہے کہ دنیا، دنیا کی ساری طاقتیں ، دنیا کے سارے علوم ، دنیا کی ساری دولتیں ، دنیا کے سارے جتھے ، دنیا کی ساری شیطنتیں زور لگا لیں انسان اس مقام پر نہ رہے کہ اتباع وحی الہی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ، وہ ضروری ہے ہر چیز ٹھکرا دینے کے قابل ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔جب دو قسم کے مقابلے ہوتے ہیں۔ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں خدا تعالیٰ کا حکم ظاہری طور پر پوری شان وشوکت کے ساتھ اگر ظاہر نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا اور ایک وہ مقابلہ ہے جو چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی عظمتوں کا اپنی قدرتوں کا اظہار کرے۔تو یہاں فرمایا کہ صبر یعنی استقامت اور استقلال کے ساتھ اس وحی کو مضبوطی سے، احکام الہی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔اس وقت تک کہ جو خَيْرُ الحکمنین ہے سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے، وہ اپنا فیصلہ کر دے۔پھر جو ظاہری، جو ڈ نیوی پریشانیاں ہیں۔بہت ساری ہوتی ہیں وہ خود بخود دور ہو جائیں گی لیکن یہ کہنا کہ ہمیں کوئی دُنیوی تکلیف ہی نہ پہنچے کوئی پریشانی نہ ہو۔یہ غلط ہے۔اللہ نے کہا ہے کہ میں تو آزماؤں گالیکن ہوں تمہارے ساتھ۔اگر تم میرے رہو گے۔جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو اگر تم میرے ہور ہو گے میں تمہارے ساتھ ہوں۔میں تمہارے ساتھ اس وقت بھی کھڑا ہوں جب دشمن کا وار تم پر پڑتا ہے اور تمہیں تکلیف ہوتی رہی ہوتی ہے۔آزمانا چاہتا ہوں تمہیں تم