خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 185
خطبات ناصر جلد نهم ۱۸۵ خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۸۱ء باہر نکال لئے۔وہ ہزاروں سال سے جو پٹرول زمین کی گہرائیوں میں چھپا تھا۔سو یا ہوا آرام کر رہا تھا اس کو جا کے جھنجھوڑا، ہلایا، بیدار کیا باہر نکال لیا چھلانگیں مارتا ہوا وہ سوراخوں سے باہر آ گیا اور پیسے اس سے کمائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ہی ان ساری چیزوں کو۔اس ساری دولت کو اس سارے مال کو پیدا کیا تھا ان کے لئے۔اس زندگی کے لئے لیکن جو ذکر ان آیات میں میں نے کیا ہے جو تم مجھ سے حاصل کر سکتے ہو۔اصل خوشی انسانی زندگی کی اس پر ہے۔جو مال و دولت وہ جمع کر رہے ہیں اس پر نہیں ہے هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ۔یہ بے شمار گنا زیادہ بھلائی اور خوشحالی کا موجب ہے خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کے پیار کو حاصل کرنا۔اس وقت جو سب سے امیر ممالک دنیا میں پائے جاتے ہیں انہوں نے فخر اور تکبر میں اپنا نام Super Powers ) سپر پاورز ) رکھ لیا یا ان کے خوف اور احساس کمتری کے نتیجہ میں دوسری قوموں نے ان کا نام سپر پاورز رکھ لیا یہ تو خدا بہتر جانتا ہے لیکن جو سپر پاورز ہیں ان کے عوام بھی خوش نہیں اپنی زندگی ہے۔اطمینانِ قلب نہیں ہے ان کو اور میں نے بہت دورے کئے ہیں کھل کے میرے ساتھ بات کرتے ہیں۔وہ اس وقت اندھیرے میں گرو پنگ ہاتھ ہلا رہے ہیں کہ شاید کوئی ایسی چیز مل جائے جس سے اطمینانِ قلب حاصل ہو جائے۔اور اطمینانِ قلب أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد:۲۹) اسلام کی تعلیم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے بغیر ان کو کبھی حاصل نہیں ہو گا نہیں ہوگا اور جس چیز کو وہ کھو چکے، اسے کھونے کے لئے یہ دنیا کوشش کر رہی ہے، ان کی نقل کر رہی ہے۔احمدی کو ان کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ یہ وعدہ کیا اللہ تعالیٰ نے ایک مومن مسلمان سے کہ میرے بتائے ہوئے طریق پر تم عمل کرو۔حقیقی خوشی تمہاری زندگی کے اندر پیدا ہو جائے گی۔میں نے بڑا غور کیا قرآن کریم پر۔کئی دفعہ پہلے کہہ چکا ہوں اور نہیں تھکوں گا یہ کہتے ہوئے کہ جو تعلیم ہے انسانی معاشرہ کے پہلو کے لحاظ سے یہ ہے کہ میں تمہیں لڑنے نہیں دوں گا۔آپس میں محبت اور پیار کے ساتھ زندگی گزارو۔ایک یہ بھی Factor ہے، ایک ذریعہ ہے خوشحالی پیدا کرنے کا ، اطمینانِ قلب پیدا کرنے کا۔ہر ایک کا حق قائم کیا۔ہر ایک کے