خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 184
خطبات ناصر جلد نهم ۱۸۴ خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۸۱ء ساتھ ہو جائے جس کے نتیجہ میں ہر وہ رحمت جو مل سکتی ہے ، وہ ہمیں ملے۔تو بنیادی اس وقت میں نے ایک بات کی کہ ہدایت حصول مقصدِ حیات کی کوشش میں کامیابی کی راہیں ہم پر کھولتی ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے۔رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ۔هُدًى وَرَحْمَةٌ بعض جگہ آ گیا۔یہاں بیان کر دیا یہ ہر جگہ ہی چلے گا۔شرط ہے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کہا اسے کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ (الصفت : ۱۰۳) میں نے بتایا تھا یہیں کسی خطبہ میں کہ یہ اسلام کی روح ہے۔جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے وہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فارسی کلام میں ایک بڑا عجیب شعر کہا ہے آپ نے فرمایا ہے۔خدا کا پیار حاصل کرنا کوئی مشکل تو نہیں ہے۔وہ جان مانگتا ہے، جان دے دو۔خدا کا پیار مل جائے گا۔یعنی خدا تعالیٰ کے پیار کا حصول اتنی عظمت رکھتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں جان دینا بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ ہر چیز کو میری رحمت نے احاطہ کیا ہوا ہے۔فَسَا كتبها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ (الاعراف: ۱۵۷) اور جو میری پناہ میں آجائیں گے اپنے اعمال اور اپنی دعاؤں کے نتیجہ میں ان کے لئے میں اس رحمت کو لکھ دوں گا۔اور پانچویں چیز جو یہاں بیان ہوئی ہے بِفَضْلِ اللهِ وَ بِرَحْمَتِہ یہ سب کچھ اپنی جگہ درست لیکن سب کچھ اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوتا ہے یعنی اس کے فضل اور رحمت کو حاصل کرنا بھی اس کے فضل اور رحمت پر موقوف ہے۔اس لئے جہاں ہمیں اعمالِ صالحہ بجالانے کا حکم ہوا وہاں دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کو جذب کرنے کا بھی حکم ہوا تا کہ ہمارے حقیر اعمال جو ہیں وہ اس کی نگاہ میں مقبول ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَبِذلِكَ فَلْيَفْرَحُوا انسانی زندگی کی خوشیاں جو ہیں وہ اس بات پر موقوف ہیں۔ایک نئی بات ہے یہاں ہمیں جوش دلانے کے لئے کہ جو مال و دولت وہ دنیا جمع کر رہی ہے اور بڑا جمع کر لیا کوئی شک نہیں یعنی بے شمار کہا جا سکتا ہے ان کا مال و دولت۔بڑی ترقی کی ، سائنس میں علم میں، ستاروں تک پہنچ گئے۔زمین کے ذخائر