خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 163 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 163

خطبات ناصر جلد نهم ۱۶۳ خطبہ جمعہ ۲۶ / جون ۱۹۸۱ء لئے یہاں تک کہ دورانِ خون ختم ہو کے سارا باز وخشک ہوجاتا ہے۔ناسمجھ دماغ کہے گا کہ اس نے خدا کے لئے بڑی قربانی دی لیکن جو صاحب فراست اور جس کو تَفَقُه في الدين حاصل ہے وہ کہے گا کہ اس نے اطاعتِ باری تعالیٰ سے گریز کیا اور خدا کو ناراض کیا تو اس نکتے کو سمجھو۔صرف جماعت احمدیہ کو کہ ان کو سمجھانا میرا فرض ہے۔یہ کہ رہا ہوں کہ کوئی بدعت بیچ میں نہ آئے۔خدا نے جو کہا ہے وہ کرو۔جو خدا نے کہا ہے وہ کرو گے تمہیں خدا کا پیار مل جائے گا۔اگر اپنی طرف سے بیچ میں بدعات کو شامل کرو گے خدا تعالیٰ کو ناراض کر دو گے۔پانچویں بات ہمیں یہ پتہ لگی کہ ایسے لوگ جو عارضی طور پر بیمار اور روزہ چھوڑ رہے ہیں۔مثلاً تین دن ۱۰۶ بخار ہو گیا ملیریا ہمارے ملک میں بڑا ہے دودن ، تین دن اس کی کمزوری رہی پانچ چھ دن وہ روزہ نہیں رکھ سکا، پھر رمضان میں ( رمضان تو انتیس ، تیس دن کا ہے ) اس نے روزے رکھنے شروع کر دیئے لیکن پانچ چھ روزے جو چھٹ گئے اس کے تو حکم یہ ہے کہ بعد میں رکھے، اگلے رمضان سے پہلے ان روزوں کو پورا کرے اور مسافر ساری عمر کے لئے تو مسافر نہیں ہوتا۔کوئی پانچ دن کے لئے باہر جائے گا اس کے پانچ روزے چھوٹیں گے اگر رمضان میں گیا، کوئی ممکن ہے کہ سارا رمضان بھی سفر میں گزارے حکم ہے کہ چھٹے ہوئے روزے انتیس دن کا اگر رمضان تھا تو انتیس روزے اگلے رمضان سے پہلے رکھے۔اگر وہ تیس دن کا رمضان ہے تو اگلے رمضان سے پہلے وہ تیس روزے اپنے پورے کرے۔یہ حکم ہے ان آیات میں۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو ، جو’ بیمار ہے جو سفر پہ ہے قسم کی Category ( کیٹیگری) میں نہیں آتے۔یہ وہ لوگ ہیں جو آگے دو قسمیں ہیں ان کی ، جو ہمیشہ کے لئے اپنی عمر میں روزہ رکھنے کی طاقت کو کھو بیٹھے ہیں۔ایک پچھتر اسی سال کا بوڑھا ہے، وہ بالکل ہی کمزور ہو گیا ہے، چلنے پھرنے کی بھی طاقت نہیں ، لوگوں کے سہارے سے اٹھ رہا ہے اور اس حالت میں رمضان آیا پھر خدا تعالیٰ نے اس کو دس سال اور زندگی دی تو دس رمضان کے روزے اس نے گزارے ہیں۔اس کے لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ رمضان کے روزے جو چھوٹ گئے ہیں وہ بعد میں رکھ لے۔ایک یہ گروہ ہے۔یا مثلاً ٹی بی کا بیمار ہو گیا نو جوان اور بیمار ہی رہا اس کو آٹھ ، دس، پندرہ بیس سال خدا نے