خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 147 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 147

خطبات ناصر جلد نهم ۱۴۷ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۱ء تو مَحْيَايَ وَمَمَاتِی میری زندگی اور میری موت یہ دونوں جسمانی لحاظ سے بھی ، اخلاقی اور روحانی لحاظ سے بھی ، موت اور زندگی کے ایک مرکب کی شکل میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک مومن کہتا ہے کہ جس طرح میری زندگی کا ہر لمحہ ، جب ایک نئی حرکت اس میں پیدا ہو، ایک نئی کوشش ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی اور اس کے قُرب کو حاصل کرنے کی ، اسی طرح جب ہر لمحہ زندگی میں شیطان میرے سامنے اخلاقی اور روحانی موت لے کر آتا ہے۔تو میں اس شیطانی موت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے کہتا ہوں کہ میں خدا کا بندہ ہوں ، تیرا وار مجھ پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔اور اس طرح مَمَاتِي لِلہ ہرلحہ زندگی میں موت کے سامنے آنے پر میرارڈ عمل جو ہے یہ ہے کہ اخلاقی اور روحانی موت سے بچنے کی کوشش وہ اللہ خدا کی رضا کے لئے اس کے قرب کے حصول کے لئے اور انسان کے نفس کے دشمن اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو بہکانے والی جو طاقتیں ہیں اس دنیا میں ، شیطانی اثر اور نفوذ کے ماتحت کرنے والی ، ان کو نا کام کرنے کے لئے ہے۔رب العلمین اور یہ میں اس لئے کرتا ہوں کہ مجھے اس یقین پر قائم کیا گیا ہے کہ عالمین کی ربوبیت صرف اللہ تعالیٰ کر سکتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان کی قوتیں اور صلاحیتیں اور استعداد میں بھی اور ہر دوسری شے کی استعداد بھی درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے اپنے کمال کو پہنچتی ہے۔لا شريك له رب ایک ہی ہے جس سے میں نے ربوبیت حاصل کرنی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس چیز کا حکم دیا گیا ہے۔وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ یہ فقرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جب آیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ نوع انسانی میں سب سے بڑا مسلمان میں ہوں۔اسلام کو سمجھنے والا ، عرفانِ الہی رکھنے والا ، خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت رکھنے والا ، اسلام کے لئے زندگی اور اسلام کے لئے موت ہر دو کیفیات میں وقف زندگی اور رد عمل جوموت کا ہے اس میں اپنے آپ کو ہی وقف کرنے والا ، خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس سے قرب کو پانے کے لئے لیکن جب ہر دوسرے آدمی کے متعلق اس کو استعمال کیا جائے تو اوَلُ الْمُسْلِمِینَ کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے جو استعدادیں دی ہیں ان کی کمال نشو و نما کے بعد جو میرا مقامِ عروج ہے اس تک پہنچنے کی کوشش کرنے والا۔