خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 139
خطبات ناصر جلد نهم ۱۳۹ خطبه جمعه ۱۲ / جون ۱۹۸۱ء کہ یعنی جماعت ہے اور ہو جاتی ہے پیدا جو ایمان باللہ کے توحید کے دعوئی کے ساتھ ساتھ شرک کی را ہوں کو بھی اختیار کرنے والے ہیں۔قبروں کی پرستش کرنے والے پیروں کی پرستش کرنے والے۔ایک دفعہ شیخ بشیر احمد صاحب مرحوم جو وکیل تھے جج بھی بنے ہائیکورٹ کے۔بڑے سخت پریشان، مجھے ملے کہنے لگے میں تو حیران ہو گیا ہوں ایک وکیل پڑھا لکھا، بڑا سمجھدار، دنیوی لحاظ سے۔مجھے کہنے لگا ہم خدا سے دعا تھوڑا ما نگتے ہیں ہم تو جس وقت ہاتھ اٹھاتے ہیں دعا کے لئے تو ہمارا پیر سامنے آجاتا ہے اور ہم اس سے دعا مانگتے ہیں۔تو پیروں کی پرستش کرنے والے اور ذاتی استعداد کو یا ترقی کو یا دولت کو خدا کا ہم پلہ سمجھنے والے اور اتنا بھروسہ کرنے والے ان چیزوں پر جتنا انسان کو خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور خدا کو چھوڑ کے ان کو کافی سمجھنے والے۔یہ مشرک جو ہیں یہ تمہیں بہت تکلیف دہ۔وَلَتَسْمَعُنَ یا زبان سے دیں گے تم سنو گے ایذا پہنچانے والی باتیں لیکن وَ إِنْ تَصْبِرُوا اگر تم اپنے دین اور ایمان کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے اور خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بناؤ گے اور خدا کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں جاؤ گے تو یہ ہمت کا کام تو ہے مگر اسی کے نتیجہ میں کامیابی انسان کو عطا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کو جب کہا جاتا ہے۔واذا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلى مَا أَنْزَلَ اللهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَو لَو كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَ لَا يَهْتَدُونَ (المائدة : ۱۰۵) کہ ایسے لوگوں کو یہ کہا جاتا ہے۔۔شرک کے دور میں پرورش پانے والے۔بدعات سے پیار کرنے والے۔اسلام کے صحیح چہرہ سے متعارف نہیں جو۔جو اللہ تعالیٰ کی خاص اور اس کی عظمت اور کبریائی کا عرفان نہیں رکھتے ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے اُتارا ہے۔قرآن کریم۔خالص قرآن۔خدا کے اُتارے ہوئے کلام اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور جو آپ نے قرآن کریم کی تشریح کی ہے اس کی طرف آؤ۔بدعات کو چھوڑو۔تو کہتے ہیں کہ ہم نے جس بات پر اپنے باپ دادا کو پایا تھا وہ ہمارے لئے کافی ہے۔یعنی خدا ہمارے لئے کافی نہیں۔جس بات پر اپنے باپ دادا کو پایا تھاوہ ہمارے لئے کافی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا اگر یہ صورت ہو کہ ان کے باپ دادا نادان ہوں اور اس کے نتیجہ میں بدعات میں پھنسے ہوئے ہوں اور جو صراط مستقیم کی سیدھی راہ ہمیں بتائی ان کو