خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 138 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 138

خطبات ناصر جلد نهم ۱۳۸ خطبه جمعه ۱۲ / جون ۱۹۸۱ء کے میدان میں بھی کامیاب ہوئے اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ میں خالص دین بدعات سے پاک دین جو تھا وہ قائم کیا اور دو تین نسلوں کے بعد پھر ان کے ماننے والے بھی ان بدعات میں پڑ گئے اور کیونکہ اب جب مہدی علیہ اسلام آئے تو جن وجوہ کی بنا پر ان کے جد امجد پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا انہیں وجوہات کی بنا پر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منکر ہو گئے۔دوسرا دور آ گیا اور ماضی قریب میں حضرت ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی پر اس وجہ سے کفر کا فتویٰ لگایا کہ قرآن کریم کا ترجمہ کرتے ہیں اور آج ہم پہ ، احمد یوں پہ اس وجہ سے کفر کا فتویٰ لگا کہ ہم ان کے مطلب کا ترجمہ نہیں کرتے۔تھوڑی سی تبدیلی ہوگئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور اتنی عظیم پیشگوئی چودہ سو سال بعد پوری ہونے والی خدا تعالیٰ کے اذن سے ہی آپ نے فرمایا۔آپ نے اعلان کیا تھا کہ میں غیب کا علم نہیں جاننے والا جو خدا مجھے سکھاتا ہے وہ میں آگے تمہیں پہنچا دیتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ مہدی کے زمانہ میں جب مہدی آئیں گے تو اس زمانہ میں اس قدر بدعات اسلام میں شامل ہو چکی ہوں گی کہ اس کی شکل ہی بدل جائے گی اور جب مہدی ان تمام بدعات کو نکال کے خالص اسلام دنیا کے سامنے پیش کرے گا تو کہا جائے گا کہ یہ اسلام ہی نہیں ہے آپ نے نیا مذہب بنالیا ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔دیکھو کتنا پورا ہوا ہے۔قرآن کریم نے مختلف پیرایوں میں اس چیز کا ذکر کیا ہے۔جو میں نے تفصیل میں ابھی بیان کی ہیں۔سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَتُبُلُونَ فِي اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ (ال عمران: ۱۸۷) تمہیں تمہارے مالوں اور تمہاری جانوں کے متعلق ضرور آزمایا جائے گا۔خدائے واحد و یگانہ پر ایمان کا دعوی کرو گے، محبت کا اعلان کرو گے، کہو گے ہم نے اسلام کو مضبوطی سے پکڑ لیا کچھ ہو جائے ہم اسے چھوڑیں گے نہیں تو خدا تعالیٰ آزمائش کرے گا۔محض زبان کا دعوی ہے یا واقع میں اور حقیقتا تم اور تمہارا دل اور تمہارا دماغ اور تمہاری روح اور تمہارا جسم کلیتاً سارے کے سارے اسلام کے عاشق اور فدائی بن چکے ہیں۔وَ لَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا (ال عمران: ۱۸۷) اور ان لوگوں سے جو قبروں پہ جاکے سجدہ کرنے والے مشرک۔قرآن کریم نے دوسری جگہ فرمایا۔وَمَا يُؤْ مِنْ اَكْثَرُهُم بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ (يوسف : ۱۰۷)