خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 132
خطبات ناصر جلد نهم ۱۳۲ خطبه جمعه ۵/جون ۱۹۸۱ء کے سروں پر پہاڑ ہیں گناہوں کے ان سے کہتا ہے مجھ سے مایوس نہیں ہونا۔تو خدا تعالیٰ یہ اعلان کر دے کہ میں نے تجھے ناپاک ٹھہرایا۔اس کے بعد تو اس کے لئے پھر واپس آنے کا سوال نہیں مگر اس زندگی میں ہے واپس آنے کا سوال۔اس واسطے اعلان کیا گیا کہ جو گندی زیست میں جان دے دیں گے، نا پاکی میں ان کا خاتمہ ہو جائے گا اس کا اعلان کرے گا قیامت کے دن۔کیونکہ اس وقت تو واپس آنے کا سوال ہی نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر ساری دنیا جہان کی دولتیں تمہارے پاس ہوں اور تم فدیہ دینا، کفارہ دینا چاہو تب بھی تمہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔میں دہراؤں گا یہ مضمون تا آپ کے ذہن میں یہ Points (پوائنٹس) جو ہیں مختلف پہلو اس کے آجا ئیں۔کیونکہ آگے چلے گا یہ مضمون کہ کافر، فاسق ، ظالم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک کیا ہے۔یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کیا سزا دے گا اور دینا چاہتا ہے جہنم۔نار کا ذکر نہیں بلکہ اس کا ذاتی سلوک ان کے ساتھ کیا ہے یہاں یہ ذکر کر رہا ہوں۔ایک ہے لعنت کا سلوک اس کے تین پہلو ہیں۔بیزاری اور نفرت کا سلوک۔جیسے کہ لعنة الله عَلَی الظالمین آیا ہے یہ بہت جگہ آیا ہے لیکن یہ چھوٹی سی آیت اس وقت اس لئے بتائی ہے کہ میں نے بتایا تھا کہ ہر ظالم، فاسق بھی ہے اور کا فر بھی ہے۔لیکن ہر کافر اور فاسق ظالم نہیں۔یعنی ایسے ظالم بھی ہیں جو کفر اور فسق کے علاوہ ظلم کرنے والے ہیں۔تو ایک تو بیزاری اور نفرت کا سلوک ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جو کفر کی حالت میں مرے ہمیشہ کے لئے یا جو کفر کی حالت میں ہو اس زندگی میں جب تک اس حالت میں ہے، فسق کی حالت میں بھی ہے ، ظالم ہونے کی حالت میں بھی ہے، میں اس سے بیزار ہوں اور نفرت کرتا ہوں۔دوسرے اس میں آتا ہے دُوری اور بعد۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جب تک تمہاری یہ حالت ہے اور تم تو بہ کر کے اور استغفار کے ذریعہ سے معافی نہیں مجھ سے لے لیتے۔عملاً اس وقت تک یا اگر اس حالت پر موت ہے میرے قرب کی راہیں تم پر کھولی نہیں جائیں گی اور تیسرے معنے اس لعنت کے یہ ہیں کہ جب تک تم اس زندگی میں ، اس ورلی زندگی میں کفر اور فسق اور ظلم کی حالت میں رہو گے۔تم ہر دو پہلو سے ناکام ہو گے۔تمہاری ساری کوششیں میرے پیارے بندوں کے خلاف، بے نتیجہ اور ناکام ہوں گی اور تمہاری کوششیں اپنی بھلائی کے لئے جو صحیح معنی میں بھلائی