خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 128 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 128

خطبات ناصر جلد نهم ۱۲۸ خطبه جمعه ۵/جون ۱۹۸۱ء بتا رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں کہتا ہے کہ تمہیں مجھے پکارنے کے لئے اونچا بولنے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بولنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ یہ اعلان کیا گیا کہ جو تمہارے صدور میں ہے ،سینوں اور خیالات کے اندر ہے اسے بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرۃ: ۱۸۷) دعا کو اس کی شرائط کے ساتھ مانگو ، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔انسانی زندگی میں نشیب وفراز ، اونچ نیچ لگی ہوئی ہے۔یہ زندگی کا خاصہ ہے۔عسر اور لیسر کا قرآن کریم میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔اس پس منظر میں میں جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جون کا مہینہ جو باقی رہ گیا ہے اس میں خصوصی طور پر، بڑی کثرت کے ساتھ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کی پریشانیوں کو دور کرے اور جس طرح ہمیشہ ہی اپنی ۹۳ سالہ زندگی میں ہم نے مشاہدہ کیا، وہ ہماری مدد کو آیا۔کیونکہ جس وقت دنیا کے سارے دروازے انسان پر بند ہو جاتے ہیں تو صرف ایک صرف ایک دروازہ ایسا ہے جس کے متعلق یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ انسان پر بند نہیں ہوتا۔وہ اللہ تعالیٰ کا دروازہ ہے۔اسے کھٹکھٹائیں، پریشانیاں دور ہو جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔یہ وقتی ادوار ہیں مومن کے لئے۔ایک حقیقی مسلمان کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے کہا میں تمہیں آزماؤں گا۔آئیں گے یہ ادوا لیکن ابدی خوشیاں اور حقیقی خوشیاں اس زندگی میں بھی سوائے مومن کے اور کسی کو نہیں ملتیں۔اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے۔ہماری کمزوریوں پر مغفرت کی چادر ڈالے اور جس کے ہم مستحق بھی نہیں وہ ہمیں عطا کرے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ کافر، فاسق اور ظالم کے معنی کیا ہیں۔ان کے معانی میں باہمی نسبت کیا ہے۔اور میں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے قرآن کریم میں جو سزائیں کھول کر بیان کی ہیں ان کا میں ذکر نہیں کرنا چاہتا بلکہ خود اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ان لوگوں سے ہے اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ان میں سے ایک کا ذکر میں نے کیا تھا۔الَا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّلِمِينَ (هود: ١٩) لعنت کے تین موٹے اور بنیادی معنے میں نے بتائے تھے۔ایک یہ کہ ملعون سے خدا تعالیٰ