خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 114
خطبات ناصر جلد نہم ۱۱۴ خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۱ء ہم استعمال کرتے ہیں یعنی بعض قرآن کریم کے تراجم کے ساتھ اس کو مثلاً انگریزی کا ترجمہ ہے وہ دیباچہ بھی لگا دیا اور علیحدہ ایک کتاب ہے قریباً تین سو اٹھائیس صفحے کی ، پوری ایک کتاب بن جاتی ہے نا۔اب اس کا فرانسیسی میں ترجمہ ہو گیا۔اس ترجمے کو میں نے بعض احمدیوں کے ذریعے کہ اس کا رد عمل کیا ہوتا ہے ایک فرنچ بولنے والے، فرانسیسی زبان بولنے والے ملک کے مسلمان Ambassador (ایمبیسیڈر) کو واقفیت تھی ایک احمدی کی میں نے کہا تم ان کو دو، ان سے رائے لو اور کچھ نہ کہنا، فتنہ نہیں پیدا کرنا صرف دیکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ اتنی عجیب ہے یہ کتاب کہ جب میں نے پڑھنی شروع کی تو جب تک ختم نہیں کی دوسری کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا اور زبان بڑی اچھی ہے۔ان کے خیال میں دو ایک جگہ ذرا زبان کی کمزوری ہے لیکن وہ تو ان کا خیال تھا۔میں نے کہا تھا پوچھ لیں اگر واقعہ میں کمزوری ہے تو دور کریں گے اس کو انشاء اللہ۔ایک یہاں کلاسیں ہو رہی ہیں مختلف جگہوں پر مختلف زبانوں کی۔لاہور میں ایک کلاس فرانسیسی کی ہے اور اس میں پڑھانے والے غالباً فرنچ ایمبیسی کے ماتحت ہیں یہ سارے۔ہر ایمبیسی اپنی اپنی زبانوں کے متعلق کرتی ہے کچھ۔تو ایک بوڑھے پروفیسر پڑھا رہے تھے تو بعض احمدی بھی وہاں پڑھ رہے ہیں ( تھا) وہ کیتھولک ، اور کہتا تھا مسلمان بچیوں کو بات کرتے ہوئے کہ تم مجھے نہیں مسلمان بناسکتیں میں بڑا پکا کیتھولک ہوں۔تو ایک احمدی شاگرد نے اسے یہی دیباچہ قرآن فرانسیسی میں دے دیا اور دو تین مہینے کے بعد پوچھا تو کہنے لگا یہ تو بڑی عجیب کتاب ہے اور چونکہ وہ کیتھولک اور متعصب تھا اس نے اس کو شروع کیا اس حصے سے بیچ میں سے جہاں اسلام کا عیسائیت سے موازنہ کیا ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور اس نے کہا یہ پڑھ لوں گا تو پھر سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پڑھوں گا لیکن وہ بڑا Excited تھا اس نے کہا یہ تو عجیب کتاب ہے جو تم نے مجھے دی ہے لیکن آپ کو یہ بتارہا ہوں کہ یہ آپ نے نہیں شائع کی پاکستانیوں نے۔نہ آپ کے پیسے سے شائع کی گئی ہے کیونکہ پیسہ تو ہم یہاں سے باہر بھیج ہی نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ نے باہر ایسے انتظام کر دیئے لیکن جو کام پاکستان نے کرنے ہیں وہ ضرور تیں تو بہر حال پاکستانیوں نے پوری کرنی ہیں۔