خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 111 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 111

خطبات ناصر جلد نهم 111 خطبه جمعه ۲۲ مئی ۱۹۸۱ء لیکن وہ جو پیسے اکٹھے کرتے ہیں وہ اپنے ملک میں خرچ کرتے ہیں اور اس طرح بہت ترقی کر رہے ہیں کہ ایسا احساس ہوتا تھا نا نا میں کہ شاید سارا ملک ہی احمدی ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ بڑی جلدی مستقبل قریب میں ملک کی اکثریت شاید احمدی ہو جائے۔ایسے حالات پیدا اللہ تعالیٰ کر رہا ہے وہاں۔کتابوں کی اشاعت ہے۔ایک وقت تھا کہ ایک ورقہ بھی اگر چھپ کے دنیا میں تقسیم کرنا ہوتا تھا تو مرکز کے انتظام میں ، مرکز کے خرچ پر ، مرکز کے ملک میں وہ چھپتا تھا اور پھر دنیا میں جاتا تھا۔جو باہر جا تا تھاوہ تو تقسیم ہو جاتا تھا مگر ایک دفعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں یہ واقعہ ہوا کہ خیبر لاج مری بوجہ حضور کی بیماری کے خالی پڑی رہتی تھی اور اس میں مربی صاحب رہتے تھے۔ہم نے مختصر سا پروگرام بنایا وہاں جانے کا اور جو مبلغ صاحب جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل ٹھہرے ہوئے تھے ، ان کو کہا کہ پانچ سات بچے حضرت صاحب کے آرہے ہیں اسے خالی کر دو۔تو انہوں نے یہ درخواست کی کہ میں بیوی بچوں کو لے کے تو چلا جاتا ہوں مگر ایک کمرے میں ضروری کا غذات ہیں وہ مجھے اجازت دے دیں کہ اس کو میں تالا لگا دوں وہ میں خالی نہیں کروں گا۔میرا اس انتظام میں کبھی بھی تعلق نہیں رہا جو بھی منتظم تھے انہوں نے کہا ٹھیک ہے وہ کمرہ نہ خالی کرو۔جب میں گیا تو مجھے شبہ پڑا۔میں نے ان کو بلا یا۔میں اس وقت صد رصدر انجمن احمد یہ تھا۔میں نے کہا میں اس کمرے میں دیکھنا چاہتا ہوں تمہارے ضروری کا غذات کون سے ہیں؟ جب میں نے کمرہ کھلوایا تو اس مبلغ کے دو تین سال کے سارے زمانہ میں اور اس سے پہلے مبلغ کے سارے زمانہ میں اور اس سے بھی شاید پہلے جتنا لٹریچر،رسالے اور کتا ہیں اصلاح وارشاد نے ان کو تقسیم کرنے کے لئے بھیجی تھیں وہ زمین کے فرش سے لے کے چھت تک بھری ہوئی تھیں۔یعنی کوئی کام ہی نہیں کیا اور شاہد مبلغ ہیں۔ہمارا احترام ہونا چاہیے ہماری عزت ہونی چاہیے۔تمہیں انسان عزت نہیں دے سکتا قرآن نہیں پڑھتے تم ؟ قرآن کریم میں اعلان کیا گیا۔تم عزت چاہتے ہو فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (النساء : ۱۴۰) اور جمیعا جو ہے لفظ اس پر غور کرو۔ہر قسم کی ، ہر Quantity ( کوانٹیٹی) میں عزت جو ہے وہ