خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 104
خطبات ناصر جلد نهم ۱۰۴ خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۸۱ء نہیں ہوگی اور میری بجائے الناس کی خشیت تمہارے دل میں ہوگی۔تو تم گھاٹے کے سودے کرنے لگ جاؤ گے۔میرے ساتھ تجارت کرو گے تو بغیر حساب کے بدلہ دوں گا۔ان سے تجارت کرو گے تو تمہارا مال بھی لوٹ کے لے جائیں گے۔جیسا کہ دنیا میں ہو رہا ہے اور یا درکھو۔وَمَنْ لم يَحْكُم بِمَا اَنْزَلَ الله (المائدة : ۴۵) جو شخص یا جو جماعت یا جو صاحب اقتدار اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو چھوڑ کے کوئی اور حکم جاری کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف فیصلے کرتا ہے۔فَأُولَبِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ (المائدة : ۴۵ ) - ان آیات میں مَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا انْزَلَ اللہ کے چار نتائج بیان کئے گئے ہیں۔( تین آیات ہیں )۔کفر کے دو معنی ہیں انکار کے اور ناشکری کے تو جو شخص مَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ الله تعالى نے انسان کی بھلائی کے لئے جو کچھ اتارا ہے۔ان احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ ناشکرا بنتا ہے اور یا وہ خدا تعالیٰ کا منکر بنتا ہے اور قرآن کریم نے ہر دو کے متعلق سزاؤں کا ذکر خود بیان کیا ہے۔تو یہاں یہ بتایا گیا کہ دیکھو اگر تم خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف اپنی زندگی کے فیصلے کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا تمہارے ساتھ سلوک وہ ہو گا جو قرآن کریم کہتا ہے کہ ایک کافر سے ہوا کرتا ہے۔تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک وہ ہوگا جو قرآن کریم کہتا ہے کہ ایک ناشکرے کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ان آیات میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے بڑے تفصیلی حکم دے دیئے۔جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت، زخم کے بدلے اس قسم کی سزا اس کو ہو جائے۔تفصیلی معین احکام بیان کر دیئے ہیں۔معاشرہ کو برائیوں سے بچانے کے لئے اور امن کو قائم کرنے کے لئے مَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ الله (المائدة : ۴۶)۔پہلے تفصیل بیان کی حکم کی۔پھر اصول بیان کیا کہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے۔فَأُولبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (المائدة : ۴۶ ) اُن کی زندگی ولیسی بن جائے گی جیسی قرآن کریم کے مطابق ظالموں کی زندگی ہوا کرتی ہے۔ظلم کے معنے ہیں کہ