خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 103

خطبات ناصر جلد نهم ۱۰۳ خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۸۱ء سے فیصلہ کر۔اللہ یقیناً انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ بِمَا اَنْزَلَ اللہ پر عمل کرنے میں جو چیز روک بنتی ہے، وہ ایک نہیں بہت سی ہیں۔جن کا ذکر لا تَتَّبِعْ اهُوَ اءَ ھم میں ہے ان میں سے ایک چیز جو روک بنتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی خشیت کو چھوڑ کے غیر اللہ کی خشیت دل میں پیدا کرنا ہے یعنی صاحب اقتدار سے ڈرنا، صاحب دولت کے سامنے جھکنا، صاحب علم سے خوف کھانا کہ یہ پروفیسر لگا ہوا ہے ہمارے ساتھ بے انصافی کرے گا اگر ہم نے اس کی بات نہ مانی اور خدا کی بات مان لی اس کے مقابلے میں۔بہت ساری چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ (المائدة : ۴۵ ) النّاس کا خوف دل میں پیدا نہ ہو۔انسان کو خدا تعالیٰ نے جو کچھ بھی دیا ہے علمی طاقتوں اور استعدادوں میں اس کو بلند بنایا یا صاحب دولت اس کو 919991 بنا دے وه يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ (البقرة : ۲۱۳) جو الناس ہیں۔جس طرح، جس رنگ میں، جس حیثیت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے، صاحب اقتدار ہیں ، کوئی نواب بن بیٹھے ہیں، کوئی رسہ گیر بن بیٹھے ہیں، کوئی چوہدری بن بیٹھے ہیں۔انسان بعض دفعہ اپنی غفلت کے نتیجہ میں یا اپنی کمزوری کی وجہ سے یا بزدلی کے نتیجہ میں ان سے ڈرنے لگتا ہے اور ان کے خوف سے خدا تعالیٰ کی بات ماننے سے عملاً انکار کر دیتا ہے۔تو فَلا تَخْشُوا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ - النَّاسَ سے جن کو میں نے پیدا کیا مختلف حیثیتوں میں ان سے مت ڈرو۔صرف میری خشیت ، صرف میری خشیت تمہارے دلوں میں ہونی چاہیے۔وَلَا تَشْتَرُوا بِأَيْتِي ثمنا قليلاً جو احکام میں نے نازل کئے (آیة کا لفظ قرآن کریم میں قرآن کریم کی آیات اور احکام کے متعلق بھی استعمال ہوا ہے ) اپنی عظمت اور کبریائی کی معرفت کے حصول کو آسان کرنے کے لئے جو اس کا ئنات میں میری صفات کے جلوے ظاہر ہوئے (ان جلووں کو بھی قرآن عظیم نے آیات کہا ) اور تمہیں تنبیہ کر کے انداری پیش گوئیاں جو نازل ہوئیں ان کی حقیقی قدر پہچانو۔کہنے والے نے کہہ دیا انا ربكم الأعلى (النازعات : ۲۵) کس خدا کی تلاش میں ہو تم۔سب سے بڑا رب تو میں ہوں۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر میری خشیت تمہارے دل میں