خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 88 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 88

خطبات ناصر جلد نہم ۸۸ خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۱ء گئی۔یہ کشمکش ، یہ جد و جہد، یہ مجاہدہ اسلامی زندگی میں، یہ تو ہے لیکن بتدریج کمزوری کا پہلو، یہ نہیں ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اسلام بتدریج ارتقائی مدارج طے کرتا رہا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ واقعہ بھی ہوا کہ ایک منافق نے (لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ ) کہا کہ مدینہ جا کے جو سب سے زیادہ عزیز ہے یعنی وہ خود ملعون منافق ، وہ نعوذ باللہ اس شخص کو جو سب سے زیادہ ذلیل ہے، نکال دے گا۔اس قسم کے لوگ وہاں بھی پیدا ہوئے۔اس کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ اسلام یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم نا کام ہوئے۔ہرگز نہیں اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ باتیں تو ہوں گی لیکن او کم يَروا أنا نَاتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أطرافها لیکن تدریجی ترقی اس عظیم دین اسلام کوملتی چلی جائے گی۔تیرہ سو سال تک جیسا کہ بتایا جاتا رہا اب اس زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا۔اَو لَم يَروا أَنَا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا۔یہ اپنے عروج کو پہنچے گا اور نوع انسانی اتنی بھاری اکثریت کے ساتھ کہ جو باقی رہ جائیں گے وہ کسی شمار میں نہیں ہوں گے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیئے جائیں گے۔اسی آیت کے آگے آتا ہے۔وَاللهُ يَحْكُم حکم خدا کا جاری ہوتا ہے کوئی اس کو بدل نہیں سکتا لا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ (الرعد: ۴۲) ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو کہیں گے ہم خدا کے فیصلوں کو بدلنا چاہتے ہیں۔اپنی شریعت بعض لوگ چلانی شروع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کوئی اس کے فیصلہ کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے۔لَا مُعَقِبَ لِحُكْمه اس کے معنی لغت نے یہ کہتے ہیں کہ عَقَبَ الْحَاكِمُ عَلَى حُكْمِ سَلَفہ کہ جو پہلا حاکم ہے اس کے فیصلہ کو وہ تبدیل کرتا ہے اور اس کے اوپر تنقید کرتا ہے اور اس کی غلطیاں نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔تو لا معقب لحكمه جو خدا کا فیصلہ ہے وہ جاری ہو گا ، جاری رہے گا اور دنیا کا کوئی حاکم جو ہے وہ خدا کے فیصلہ میں غلطیاں نہیں نکال سکے گا۔جو خدا کا حکم ہے اس کے مطابق مسلمان کو زندگی گزارنی پڑے گی۔جو گزارے گا وہی کامیاب ہو گا جو نہیں گزارے گا خدا جانے ہمیں تو نہیں ہے شوق کہ خدا تعالیٰ کی گرفت کے اندر آئے کوئی۔ہم تو دعائیں کرتے ہیں فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ تشاء۔آپ بھی اسے سامنے رکھا کریں۔بعض احمدی بھی غصے میں آکر کہتے ہیں تو نے جہنم میں جانا ہے۔کون ہوتے ہو تم کسی کو جہنم میں بھیجنے والے۔ایک عیسائی کے متعلق بھی نہیں ہم کہہ سکتے۔اگر فَيَغْفِرُ