خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 59
خطبات ناصر جلد نهم ۵۹ خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۸۱ء کے اندر اپنا کام کر رہی ہے جو نقص ہیں ان کو دور کر دیتی ہے صفت رحیمیت لیکن محض رحیمیت کے جلوے تو ہمیں وہاں تک نہیں پہنچا سکتے جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم پہنچیں۔جب تک وہ رحمن خدا جس نے ہماری پیدائش کے وقت بغیر کسی عمل کے ہمیں بہت کچھ دیا اتنا د یا کہ ہم شمار نہیں کر سکتے اس کا۔ہمیں کہا گیا کہ اس کا در کھٹکھٹاؤ اور اس سے وہ حاصل کرو جو تمہارے مقبول اعمال سے زیادہ ہے کیونکہ محض مقبول اعمال ہی کافی نہیں ہیں تب تم اپنی ذمہ داریاں نباہ سکو گے۔اب آج کی دنیا کی طرف اگر آپ دیکھیں تو یہ تباہی کی طرف جارہی ہے ایک میں مثال دیتا ہوں۔آج کی دنیا خود کو مہذب کہتی ہے اور اس تہذیب کا ایک لازمی جز اور حصہ یہ ہے کہ یہ مہذب دنیا Strike ( سٹرائیک) کرتی ہے یعنی کام چھوڑ بیٹھتی ہے اور میرا خیال ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرا خیال غلط نہیں، اربوں ارب روپے کا سالانہ نقصان کرتی ہے۔یہ مہذب دنیا۔اس مثال سے آپ اندازہ لگا لیں کہ ایک دفعہ انگلستان میں ایک صنعتی شہر میں سترہ منٹ کے لئے بجلی فیل ہو گئی۔سترہ منٹ کے لئے بجلی فیل ہوئی، سارے انگلستان کے اخباروں نے شور مچایا۔چیخ پڑے جس طرح کوئے چیختے ہیں نا اس طرح اور ان کے جو ماہرین اقتصادیات تھے انہوں نے اندازے لگائے کہ اس سترہ منٹ میں اتنے کروڑ پاؤنڈسٹرلنگ کا نقصان ہو گیا ہمارے ملک کو۔تو جب کا رخانے بند ہوتے ہیں مہینہ، دو مہینے، تین مہینے ، چار مہینے کے لئے کتنا نقصان ہوتا ہوگا۔اربوں کھربوں روپے کا نقصان کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مہذب ہیں۔بعض جانوروں کے متعلق آتا ہے کہ ان کے اگر زخم لگ جائے تو اپنا ہی خون چوسنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنا ہی خون چوس چوس کر مر جاتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی بھلائی کا کام کر رہے ہیں اور دراصل وہ خود کشی ہے۔اس مہذب دنیا کو کس نے سمجھانا ہے اگر آپ نے نہیں سمجھانا کہ اس گند سے باہر نکلو۔ہمیں بھی تھوڑا سا نقصان پہنچا نقصان تو نہیں تھوڑی سی دیر ہوگئی۔میں بنیادرکھ کے آیا تھا قرطبہ کی مسجد کی اس کے بعد پھر آرکیٹیکٹ کے کام تھے، معاہدہ جو ٹھیکیدار کے ساتھ کرنا تھا اس میں بھی وقت لگتا ہے یہ معاہدہ تیار ہوا اور ۱۲ جنوری کو اس معاہدے پر دستخط ہو گئے۔۱۲؍ جنوری حضرت مصلح موعود کا یوم ولادت بھی ہے۔۱۲ جنوری کے ساتھ بعض دیگر برکتوں والے واقعات کا تعلق تھا۔دو چار دن