خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 48 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 48

خطبه جمعه ۱۳ / مارچ ۱۹۸۱ء خطبات ناصر جلد نهم ۴۸ اس کھجور سے اس وقت بھی وفا کی جب سپین میں ساری دنیا کی دولتیں ان کے قدموں میں لا کے ڈال دی گئیں اور وفا کی اس گھوڑے کے ساتھ ، عرب گھوڑا۔سارے محققین جنہوں نے گھوڑوں کے او پر تحقیق کی ہے وہ اس بات پر متفق ہیں کہ عرب گھوڑے کی ترقی کا انحصار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں دلچسپی اور اس کے متعلق آپ کے ارشادات پر ہے۔میں نے مضمون اکٹھا کرنا شروع کیا تھا روایتیں تو وہ مسودہ ایک اچھی موٹی کتاب کی شکل اختیار کر گیا ہے۔کہیں پڑا ہوا ہوگا۔عرب گھوڑے میں یہ صفت ہے وفا، جو اس کے مالک میں وفاتھی نا کہ خدا تعالیٰ کے لئے جان دینا تو معمولی چیز ہے ساری زندگی دے دینا جو اب وقف کے نزدیک ہے نا تو چند لمحوں کی بات ہے نا جان دے دینا۔لیکن ہر روز ہر آن خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان پیش کرتے چلے جانا یہ زیادہ بڑی قربانی ہے۔جیسا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مثال سے یہ واضح ہے۔(اس مضمون میں نہیں جاؤں گا میں اس وقت ) گھوڑے میں بھی اپنے آقا کو دیکھ کر یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دیکھ کر یہ وفا کا اور جاں نثاری کا مادہ پیدا ہوا۔اتنا دلیر ہے میں نے بعض تصویریں دیکھی ہیں۔جب انگریز شروع شروع میں ہندوستان میں آیا اور شمالی حصوں میں آیا تو سکھوں سے بھی انہوں نے بہت ساری لڑائیاں لڑیں تو اس میں سکھ بھی عرب گھوڑے پر سوار نظر آتا ہے اور انگریز افسر بھی عرب گھوڑے پر سوار نظر آتا ہے اور عرب گھوڑا نیزے کی آنی کے اوپر چھلانگ لگا تا ہے۔اس کو کوئی خوف ہی نہیں ہے۔اس کو صرف یہ ہے کہ میں اپنے مالک کی خاطر آج جان قربان کر دوں اور اتنی وفا کی گھوڑے نے اُمت محمدیہ کے ساتھ ، اُمت مسلمہ کے ساتھ اور اتنی وفا کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبق دینے کے لئے اپنی امت کو بھی اور خود بھی اللہ تعالیٰ کا حکم تھا گھوڑے کے ساتھ کہ ایک دن نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم ( وہ اس زمانے میں گھوڑوں نے بڑا کام کیا وہ اپنا ایک لمبا مضمون ہے ) خود اس کی صفائی کر رہے تھے اور مالش کر رہے تھے۔بعض صحابہ گزرے انہوں نے کہا یہ کیا ظلم ہو گیا۔دل میں کہا انہوں نے کہ ہمارے ہوتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا تکلیف اٹھا رہے ہیں۔آپ چلے گئے پاس کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑیں ہم کرتے ہیں۔آپ نے کہا نہیں، مجھے خدا تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ۔