خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 45 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 45

خطبات ناصر جلد نهم ۴۵ خطبه جمعه ۱۳ / مارچ ۱۹۸۱ء دلیل بنی۔میں نے یورپ میں ۷۸ ء میں فرینکفورٹ شہر میں پریس کانفرنس کے موقع پر صحافیوں کو کہا کہ اس سے بڑی دلیل تمہیں کیا چاہیے صداقت کی کہ وہ اکیلا تھا اور تم سارے اکٹھے ہوکر اس کی دشمنی پر تکلے اور اس کے مقابلے میں تم نے ہزار ہا منصوبے بنائے لیکن وہ نا کام نہیں ہوا۔وہ ایک اس وقت ایک کروڑ بن چکا ہے۔تو اگر ہم یہ کہیں کہ یہ کروڑ جو ہے ان میں سے ہر ایک انگلی صدی میں ایک کروڑ بن جائے تو حساب لگاؤ کیا بنتی ہے تعداد؟ ایک بڑا ثقہ صحافی وہاں بیٹھا ہوا تھا۔یہ جو پر یس کا نفرنس ہوتی ہے اس میں باتیں سنتے ہیں، جو مرضی ہو نوٹ کرتے ہیں، جو مرضی ہو چھوڑ جاتے ہیں۔ان کو میں نے کہا میری خاطر آپ ضرب لگا کر دیکھیں۔میری خاطر انہوں نے ضرب لگائی۔سمجھے ضرب غلط لگ گئی ہے۔میں انہیں دیکھ رہا تھا خاموشی سے۔پھر انہوں نے اسے کاٹا پھر دوبارہ ضرب لگائی۔پھر مسکرائے ، منہ اٹھایا ، مجھے کہنے لگے اتنی تو دنیا کی آبادی نہیں۔میں نے کہا میں یہ نہیں کہتا کہ اتنی تعداد میں دنیا میں احمدی مسلمان ہو جائے گا۔میں یہ کہتا ہوں کہ جس طرح ایک نوے سال میں ایک کروڑ بن گیا اس ایک کروڑ کا اپنے اس مقصد میں کامیاب ہونا ناممکن نہیں کہ دنیا کی بڑی بھاری اکثریت اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت لی جائے۔تو کام تو ہر احمدی نے ہر حالت میں اپنے کرنے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔اس لئے بھی کہ قرآن کریم نے بڑا زور دیا ہے اس بات پر کہ جو عہد کرو وہ پورا کرو۔و اوفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسر آءیل : ۳۵) اگر نہیں کرو گے جواب طلبی ہو گی تمہاری اور خدا تعالیٰ جواب طلبی کرنے والا ہے۔انسانوں سے تو آدمی دھوکہ بازی کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ سے نہیں کرسکتا۔یہ مضمون تو بڑا وسیع ہے۔بہت سی آیات میں اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے لیکن میں بوجہ اپنی بیماری اور کمزوری کے مختصراً اس طرف اس وقت توجہ دلا رہا ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے، ایسا نظر آتا ہے کہ اُمت مسلمہ کی فطرت میں دینِ اسلام نے صدق وصفا اور وفا کا مادہ دل کی گہرائیوں میں گاڑ دیا ہے۔اس قدر وفا کرنے والی کوئی اُمت دنیا میں نہیں گزری۔صدیاں ہو گئیں یہ اب پندرہویں صدی ہجری شروع ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ سے ایک عہد کیا اس سے وفا کی۔جب مسلمان کو تپتی دھوپ میں انگارے کی طرح گرم ریت کے ذروں پر لٹا کر،