خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 44 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 44

خطبات ناصر جلد نهم ۴۴ خطبه جمعه ۱۳ / مارچ ۱۹۸۱ء ٹھیک کر دیا اور آگئے ڈاکٹر صاحب خود، ڈاکٹر شفیق صاحب وہ میرے Dentist ( ڈینٹسٹ ) ہیں لیکن جب وہ میں نے استعمال کیا تو اس نے میرے جبڑے میں اور گلے کی طرف دباؤ ڈالا اور سرخی اور رگڑ اس سے پیدا ہوئی اور وہ جو تکلیف تھی کہ میں کھانا نہیں کھا سکتا وہ بدستور قائم رہی اور کچھ سمجھ نہ آئے۔اچانک میری نظر پڑی تو جوڑتے وقت ایک زاویہ تھوڑا سا غلط ہوا ہوا ہے۔اس کی وجہ سے کمزوری میں اور بھی اضافہ ہو گیا کیونکہ کھانے کی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے اور جو میں کھانا کھانے کا عادی ہوں اس میں فرق آجاتا ہے اور بڑی تکلیف ہوتی ہے۔گزشتہ رات کے کھانے کے وقت تو آدھے گھنٹے میں بمشکل میں دو لقمے کھا سکا۔پھر میں نے ایک اور کھانا تجویز کیا اپنے لئے تھوڑا سا کھایا۔بہر حال یہ جو بیماریاں اور ضعف وغیرہ ہے یہ تو انسان کی زندگی کے ساتھ لگا ہوا ہے اور ایک مسلمان ان تکلیفوں اور بیماریوں اور کمزوریوں کی اس معنی میں پرواہ نہیں کرتا کہ جس طرح دنیا کے دیگر ابتلا ایک مسلمان کے کام میں حارج نہیں ہوتے اسی طرح یہ بیماریاں بھی ایک مسلمان کے کام میں حارج نہیں ہوتیں۔اس سارے عرصہ میں میں پورا کام بھی کرتا رہا ہوں اور بیمار بھی رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیکھنے والے مجھے بیمار سمجھتے بھی نہیں رہے۔رات کے دو دو بجے تک بھی بعض دفعہ کام کرنا پڑتا ہے۔کام جماعت کی وسعت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا۔ایک آدمی کی جماعت تھی۔وہ غالب نے کہا ہے۔بع ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب اکیلے تھے تو انجمن ہی تھے نا کہ جس طرح پھول کی پتیاں کھل کے گلاب کا پھول بیسیوں پتیوں والا نہایت حسین پھول بن جاتا ہے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں آپ کا یہ فدائی متبع ، آپ پر نثار ہونے والا ، آپ سے پیار کرنے والا ، چوبیس گھنٹے آپ پر درود بھیجنے والا ، آپ کے منصوبہ کے مطابق ساری دنیا کے مقابلے میں کھڑا ہو کر ساری دنیا کا مقابلہ کرنے والا اور آپ کی صداقت کی بڑی زبر دست