خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 495 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 495

خطبات ناصر جلد نهم ۴۹۵ خطبه جمعه ۱۴ مئی ۱۹۸۲ء صراط مستقیم پر چلو خدا تعالیٰ تک پہنچ جاؤ گے خطبه جمعه فرموده ۱۴ رمئی ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآن عظیم نے مسلمان کی مختلف قسمیں بیان کی ہیں۔سب سے کمزور وہ مسلمان ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور اس کے علم میں ہے یہ بات کہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا لیکن تمہیں اجازت دی جاتی ہے کہ اپنے آپ کو اگر چاہو تو مسلمان کہہ سکتے ہو اور دوسری طرف اس مسلمان کا ذکر ہے جو قرآن کریم کی اصطلاح میں مُؤْمِنُونَ حَقًّا کے گروہ میں داخل ہے۔ان کے درمیان بھی بعض ایسے مسلمان کہلانے والوں کا یا جن کو اللہ تعالیٰ نے دائرہ اسلام میں داخل سمجھا ہے ، ذکر ہے جو ان دو کے درمیان آتے ہیں۔سورہ حج کی آخری دو آیات میں مُؤْمِنُونَ حَقًّا اور وہ مومن جو مُؤْمِنُونَ حَقًّا سے ذرا کم درجے کے ہیں، وہ دونوں ہی داخل ہو جاتے ہیں لیکن وہاں مُؤْمِنُونَ حَقًّا کی بہت زبر دست تفسیر کی ہے خود قرآن کریم نے اپنی زبان میں۔آخری سے پہلی آیت میں یہ ہے کہ یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے وہ لوگو! جو اپنے آپ کو مومن کہتے ہو یا ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہور کوع اور سجدہ کرو۔وَاعْبُدُوا رَبَّكُمُ اپنے رب کی عبادت