خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 481
خطبات ناصر جلد نهم ۴۸۱ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۸۲ء نظام وصیت آسمانی رفعتوں تک پہنچانے والا نظام ہے خطبه جمعه فرموده ۱/۳۰ پریل ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ میں نظام وصیت کو قائم کیا۔نظام وصیت ایک عظیم نظام ہے ہر پہلو کے لحاظ سے۔نظام وصیت کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جو ممبر ہیں یا داخل ہیں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں، ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو جو اسلامی تعلیم کی رو سے ذمہ داریوں کو اس قدر توجہ اور قربانی سے ادا کرنے والا ہو کہ ان میں اور دوسرے گروہ میں ایک ما بہ الامتیاز پیدا ہو جائے۔نظام وصیت صرف ۱۱۱۰ مالی قربانی کا نام نہیں۔یہ نظام ہے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمانی رفعتوں تک پہنچانے کا اور جہاں اس نظام میں مالی قربانی کی امید رکھی جاتی ہے وہاں ہر دوسرے پہلو سے ایک نمایاں، بھر پور اسلامی زندگی جو ہر لحاظ سے منور ہو اور حسین ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں رفعتوں کی طرف لے جانے والی ہو اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والی ہو۔جہاں تک مالی قربانی کا سوال ہے عملی زندگی میں الجھنیں پیدا بھی ہوتی ہیں۔الجھنیں دور