خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 472 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 472

خطبات ناصر جلد نہم ۴۷۲ خطبه جمعه ۱/۲۳ پریل ۱۹۸۲ء کہا جاتا ہے ) صفات کا علم رکھتے ہوں اپنی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق ، تو ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ ہم پر جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے متعلق ڈالی گئی ہے وہ ہم پورا کر سکیں۔پہلی دو صفتیں جو ہیں رب ہونا اللہ تعالیٰ کا اور رحمن ہونا ، ان میں انتہائی وسعت ہے۔ہر چیز کو اس نے پیدا کیا۔ہر چیز میں اس نے کچھ قوتیں اور صلاحیتیں اور طاقتیں پیدا کیں اور اصول تدریج کے مطابق ہر چیز کی نشو و نما کے سامان پیدا کئے اور ہر چیز کو اس نے کمال نشو و نما تک پہنچایا یا جہاں تک انسان کا تعلق ہے، پہنچانے کے سامان پیدا کئے۔یہ جو کائنات ہے اس میں مختلف قسم کی اشیاء ہمیں نظر آتی ہیں۔مثلاً نباتات ہے۔ان درختوں میں مثلاً آم کا درخت ہے۔آم کا درخت ابتدا میں خدا نے جس طرح پیدا کیا ، اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن اس وقت وہ اپنی گٹھلی سے پیدا ہوتا ہے۔ہم گٹھلی لگاتے ہیں۔اس میں سے ایک شاخ نکلتی ہے۔پھر وہ بڑی ہوتی ہے۔پھر وہ اپنے اچھے خاصے قد کو پہنچتی ہے۔پھر اس سے پھل پیدا ہونے شروع ہوتے ہیں اور انسان کو اس نے یہ عقل اور سمجھ عطا کی کہ پیوند کر سکے، اچھے آم کے درخت کا ، عام کٹھلی جو ہے اس سے جو درخت پیدا ہوا، اس کے ساتھ۔اور اس درخت میں یہ قوت رکھی کہ وہ اس پیوند کو قبول کرے اور اپنی جو پیداوار ہے، جو اس کا نتیجہ نکلا، جو ثمر ہے اس کوشش کا ، اس میں زیادہ لذت پیدا ہو۔اور بہت سی دوسری صفات ہیں جن کی تفصیل میں اس وقت جانے کی ضرورت نہیں ، جو پیوند کے نتیجے میں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس کائنات میں ہیرا ہے۔پتہ نہیں کتنے ہزار سال میں مٹی کے اجزا مختلف مدارج میں سے گزر کے ہیرا بنتے ہیں۔اتنا لمبا زمانہ ہے اور اتنی تھوڑی تحقیق ہے اس پر کہ اس کا سمجھنا شاید ہمارے لئے مشکل ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ شاید لاکھوں، کروڑوں سال میں مٹی کے اجزا ہیرے کی شکل اختیار کرتے ہیں۔میں آسان ایک اور مثال لے لیتا ہوں سمجھنے کے لئے۔ست سلاجیت ہے۔ایک دوائی ہے۔پہلے سمجھتے تھے یہ پتھر کا حصہ ہے۔اب تحقیق یہ ہوئی کہ ایک بڑی چھوٹی بوٹی ہے جس کا قد بمشکل ایک چاول کے برابر ہے اور Lichen (لچن ) اس کو کہتے ہیں انگریزی میں ، وہ پتھروں کے اوپر سبز سی ایک ، جس طرح مخمل ہوتی ہے اس طرح تہ جم جاتی ہے مٹی کے