خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 463
خطبات ناصر جلد نهم ۴۶۳ خطبہ جمعہ ۱٫۹ پریل ۱۹۸۲ء پس یہ حال ہے یعنی عورت سے پیار صرف شہوت نفسانی کے نتیجہ میں اور اس حد تک ، اس سے آگے نہیں بڑھا۔مغرب اور امریکہ وغیرہ میں لوگ T۔V پر رو ر ہے ہیں کہ اس ذلت تک ہماری قو میں پہنچ چکی ہیں اور ان کے اپنے معاشرہ میں ، اپنے اخلاقی اقدار جو بھی ان کے ہیں یا جو مذہب ان کا ہے اس میں اس کا کوئی حل نہیں۔اسی لئے میں ان کو کہتا رہا ہوں کہ تمہارے مسائل کا حل صرف اسلام میں ہے اور تمہاری بچیوں اور عزیز رشتہ دار عورتوں کی عزت کی حفاظت کے لئے اسلام پردہ کا حکم دیتا ہے اور تم پردہ پر اعتراض کر دیتے ہو۔عجیب ہو تم ! پس خدا نے انسان کو طاقتیں دیں، صلاحیتیں دی ، استعدادیں دیں، بڑی زبردست دیں۔ان استعدادوں کے استعمال کے لئے ساری کائنات پیدا کر دی اور ان کے صحیح استعمال کے لئے اب ہماری زندگیوں میں چودہ سو سال ہوئے قرآن کریم کو نازل کر دیا اور ہمیں حکم دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔آپ کے متعلق قرآن کریم نے کہا۔إنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (یونس : ۱۶) میں تو صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ ود 79 کی طرف سے نازل ہوئی اور ہمیں حکم دیا۔إن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران: ۳۲) اگر چاہتے ہو کہ خدا تم سے محبت کرے تو ایک ہی رستہ ہے اِتَّبِعُونِي میری اتباع کرو اور اس کا اعلان کر دیا یعنی میری اتباع کرو اس معنی میں کہ جس طرح میں صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ وحی کی اتباع کرتا ہوں۔تم بھی صرف خدا کی طرف سے نازل کردہ وحی کی اتباع کرو۔يُحببكُمُ الله میرے نقشِ قدم پر چلو گے۔اللہ تعالیٰ کے پیار کو پالو گے۔پس بڑا ز بر دست فرق ہمیں نظر آتا ہے اس زندگی میں جو شیطانی تپتی ہوئی دھوپ کے نیچے آج دنیا گزار رہی ہے اور اس زندگی میں جو خدا تعالیٰ کے پیارے اور محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے سائے کے نیچے گزرنے والی ہے۔ان دو زندگیوں میں بڑا فرق نظر آتا ہے۔پس کوشش یہ کرنی چاہیے کہ شیطان قریب آئے تو دھکے دے کر اسے اپنے قرب سے پر پھینکو اور خدا تعالیٰ کے فرشتے اگر تمہاری ہدایت کے لئے نازل ہوں تو چمٹ جاؤ ان کے