خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 447 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 447

خطبات ناصر جلد نهم ۴۴۷ خطبہ جمعہ ۲۶ / مارچ ۱۹۸۲ء کے لئے نہیں ہوگی ، نہ کوئی مقام ہوگا اس کے لئے اگر وہ دعا نہیں کرتا۔پس جس طرح ہمارے جسم کے ساتھ دل کی دھڑکن اور خون کی روانی لگی ہوئی ہے اسی طرح ہماری روح کے ساتھ دعا لگی ہوئی ہے اگر انسان سمجھے۔اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چھوٹی اور بڑی چیز کے حصول کے لئے اپنے آپ کو کچھ سمجھ نہ لینا، خدا سے مانگنا یہاں تک کہ اگر تمہارے بوٹ کا تسمہ ٹوٹ جائے تو بوٹ کا تسمہ بھی اپنے خدا سے مانگنا اور خود میرے مشاہدہ میں ہے کہ بعض دفعہ ایک انسان ایک چھوٹی سی غرض کے حصول کے لئے سائیکل پر سوار ہوتا اور چند فرلانگ پر اس نے جانا ہے اس غرض کو پورا کرنے کے لئے اگر مقبول دعا کئے بغیر وہ روانہ ہو جاتا ہے تو مقصود تک پہنچنے سے پہلے راستہ میں اس کا دم نکل جاتا ہے۔زندگی اور موت کسی کے اختیار میں نہیں۔روحانی طور پر اور اخلاقی لحاظ سے کامیابیاں اور نا کامی بھی کسی کے اختیار میں نہیں۔خدا تعالیٰ کی نظر سے گر جانا اور خدا تعالیٰ کی نظر میں پیار دیکھنا، یہ بھی کسی کے اختیار میں نہیں۔خدا تعالیٰ کی درگاہ تک پہنچ جانا یا درگاہ سے دھتکارا جانا ، یہ بھی کسی کے اختیار میں نہیں۔یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اس لئے فرما یا :۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَو لَا دُعَاؤُكُمْ دعا کے ذریعہ سے اپنی تمام انسانی ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کرو۔دعا قبول ہوگی کامیاب ہو جاؤ گے۔دعا قبول نہیں ہوگی ناکام ہو جاؤ گے۔آج کا دن جماعتِ احمدیہ کی زندگی میں ہر سال بہت اہمیت لئے ہوئے آتا ہے کیونکہ مجلس شوری آج منعقد ہوگی۔اس کا افتتاح ہوگا بہت ساری باتوں پر غور کیا جائے گا۔ہمارے ذمہ جو اللہ تعالیٰ نے کام لگایا ہے کہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کریں دلوں کو جیت کر اور مردوں کو زندہ کر کے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں پیدا کر کے خدا اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا کونے کونے میں گاڑیں۔یہ جو عظیم مہم اور مجاہدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ثابت کرنے اور آپ کے نور اور حسن سے اس زمین کو روشن اور خوبصورت بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے یہ ہماری باتیں ہماری فکر ہمارا غور ہمارے مشورے سب اس غرض کے لئے ہوں گے۔اگر جوتی کا تسمہ بھی ہم نے اپنے رب کی