خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 436 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 436

خطبات ناصر جلد نهم ۴۳۶ خطبہ جمعہ ۱۹ ؍ مارچ ۱۹۸۲ء عَلَّقَ اللهُ تَعَالَى الْأَحْكَامَ الَّتِي لَا يُدْرِكُهَا إِلَّا الْعُقُوْلُ الزَّكِيَّةُ بِأُولِي الْأَلْبَابِ - فرق یہ ہے کہ محض عقل کے لئے پاکیزگی کی ضرورت نہیں لیکن اس عقل کے لئے جو لب کہلاتی ہے پاکیزگی کی ضرورت ہے۔الْخَالِصُ مِنَ الشَّوائِبِ کے معنی ہیں کہ جس میں کوئی عیب نہ پایا جائے کوئی ناپاکی نہ پائی جائے ، دئس نہ پایا جائے اور جو مقصدِ حیات ہے اس سے دور لے جانے والی چیز نہ پائی جائے۔تو وہ عقل جو الخَالِصُ مِنَ الشَّوائِبِ ہے اسے لب کہتے ہیں اور یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں وہ ان جیسے نہیں جو علم نہیں رکھتے لیکن جس علم کا یہاں ذکر کیا گیا وہ عام علم نہیں جو عام عقل کے ذریعہ سے حاصل کیا جاتا ہے اس لئے آگے فرما یا انمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ جو اولوا الا لباب ہیں وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔وہ علم رکھتے ہیں اور علم سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔بنیادی علم جو انسان کی ہدایت کا موجب بنتا اور جس سے وہ نصیحت حاصل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ظہور جو ہے وہ اس کا علم ہے یعنی معرفت ذات باری تعالیٰ کا علم رکھنا، یہ تعلق رکھتا ہے اس انسان سے جو اولوالالباب کے گروہ میں ہے اور ہر جلوہ اللہ تعالیٰ کی صفت کا ایک Pointer(پوائنٹر ) ہے کسی جہت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔قرآن کریم نے یہاں تو ( هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ایک آیت کا چھوٹا سا ٹکڑہ ہے اس میں ) یہ حقیقت بیان کی لیکن بھرا پڑا ہے اس تفصیل سے کہ مراد کیا ہے علم سے۔چند ایک مثالیں دو ایک میں دوں گا ابھی۔اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر عقل مند جو ہے وہ آخرت کا خوف تو نہیں رکھتا۔یہ جو بڑے بڑے عقل مند بڑی ایجادیں انہوں نے کیں ہیں، ان کے دل میں کوئی آخرت کا خوف نہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ اکثر کے دل میں، کیونکہ اب مسلمان بھی ابھر رہا ہے۔ڈاکٹر سلام بھی آگے نکل آئے ہیں۔تو دنیا کے اکثر سائنسدان ایسے ہیں جن کے دل میں آخرت کا خوف نہیں یعنی اس بات سے وہ خائف نہیں کہ ہماری زندگی کا ایک مقصد ہے اور اگر ہم اس مقصد کے حصول میں نا کام ہوئے تو اللہ تعالیٰ کا غضب ہم پہ بھر کے گا اور وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔وہ خدا کو ہی نہیں مانتے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امیدرکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔