خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 31
خطبات ناصر جلد نهم ۳۱ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۱ء مرنے کے بعد کی زندگی میں عمل اور مجاہدہ ہے کوئی امتحان نہیں خطبه جمعه فرموده ۲۷ فروری ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سورہ رعد میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَ الَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَ أَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولبِكَ لَهُم عُقْبَى الدَّارِ (الرعد: ٢٣) اس آیہ کریمہ میں ایک بنیادی بات بتائی گئی ہے جس کا تعلق انسانی زندگی کے ہر لمحہ سے ہے اور وہ یہ ہے۔وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں ثابت قدمی سے کام لیا۔یہ جو وفا اور ثبات قدم ہے اس کا تعلق انسانی زندگی کے ، فردی زندگی کے کسی خاص وقت کے ساتھ نہیں۔صبح کے ساتھ نہیں کہ ظہر کے ساتھ نہ ہو اور ظہر کے ساتھ نہیں کہ شام کے ساتھ نہ ہو۔زندگی کا ہرلمحہ خدا تعالیٰ کی رضا کی طلب میں خرچ ہوا سے اس آیت کی روشنی میں ثبات قدم کہا جائے گا تو جو استقامت کے ساتھ ثبات قدم کی جو راہ ہے ، وفا اور استقامت کا جو اُسوہ ہے اس کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی کے دن گزاریں گے۔انہیں ”الدّارِ “ جو جنت انسان کے لئے