خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 395
خطبات ناصر جلد نہم کرنے والے بن جاتے ہیں۔۳۹۵ خطبہ جمعہ ۲۲ جنوری ۱۹۸۲ء جہاں ، جس وقت ، جس گروہ میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اس حقیقت کو وہ بھول گئے وہاں ہمیں کمزوری اور تنزل بھی نظر آنے لگتا ہے۔اس اہم بات کی طرف اس وقت میں جماعت کو تو جہ دلا نا چاہتا ہوں۔جوانسان پیدا ہوتا ہے وہ بوڑھا ہو جاتا ہے، کام کے لائق نہیں رہتا یا فوت ہو جاتا ہے اور اپنے رب سے اپنے اعمال کی جزا پاتا ہے لیکن الہی سلسلہ کو جس نے ساری دنیا میں دین الحق کو غالب کرنا ہے ان کے قائم مقام ملتے رہنے چاہئیں، اگر پہلوں سے بڑھ کر نہیں تو کم از کم پہلوں جیسے۔میں نے محسوس کیا ہے کہ کچھ عرصہ سے جماعت ( یہ جماعت کی اجتماعی زندگی کا تقاضا ہے ) اس طرف توجہ نہیں دے رہی اور میں نے محسوس کیا ہے کہ اگر ہم نے فوری اس طرف توجہ نہ دی تو ایک بڑا خطرناک دھکا بھی لگ سکتا ہے، نقصان بھی پہنچ سکتا ہے سلسلہ عالیہ احمدیہ کو۔عارضی طور پر ہو گا کیونکہ خدا کا منصوبہ نا کام نہیں ہوا کرتا۔کمزوری دکھانے والے ایک حصہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اپنے ماحول میں۔جو بات دس سال میں ہونی ہے وہ پندرہ سال میں ہو جائے گی، ہیں سال میں ہو جائے گی لیکن کامیاب تو خدا تعالیٰ کا منصوبہ ہی ہوگا اور آج منصو بہ یہ ہے کہ سلسلہ عالیہ احمد یہ جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق نے قائم کیا جس کی محبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اس قدر تھی کہ قیامت تک کے علماء اور بڑے بڑے بزرگ اور آپ سے فیض حاصل کر کے روحانی رفعتوں کو حاصل کرنے والے وہ کروڑوں جو آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ان میں سے اس ایک کو چنا اور اسے سلام پہنچایا اپنا۔یہ عظیم اور دین الحق کو اپنے انتہائی عروج تک پہنچانے والا سلسلہ قائم کیا گیا ہے۔اس کے لئے واقفین زندگی چاہئیں اور جلد چاہئیں۔جلد سے میری یہ مراد نہیں کہ آج شام سے قبل، چھ مہینے سال لگ جائے گا۔جو پڑھ رہے ہیں نوجوان، وہ غور کریں وہ اپنی زندگیوں کی حقیقت کو سمجھیں ، وہ اپنے مقام کی عظمت کو پہچانیں۔دنیا اگر ان کو دس لاکھ روپے ایک Million (ملین ) ماہانہ بھی دے تو ان کی وہ عزت قائم نہیں ہوتی جس قدر وہ عزت جو خدا کی راہ میں حقیقی وقف کی روح پیدا