خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 394
خطبات ناصر جلد نهم ۳۹۴ خطبہ جمعہ ۲۲ / جنوری ۱۹۸۲ء خالد پیدا نہیں ہوگا، محمد بن قاسم اس جہان کو چھوڑ کے چلے گئے اور اب اُمت مسلمہ محمد بن قاسم جیسے انسانوں سے محروم رہے گی یا طارق آئے ، اور چھوٹی عمر میں اور تھوڑے سے زمانہ میں انہوں نے ایک عظیم کام کیا۔ایک عظیم خدمت ، دینِ اسلام کی کی۔اس کے بعد اب کوئی طارق پیدا نہیں ہوگا بلکہ انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ رسول ہیں اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں قیامت تک خالد، محمد بن قاسم اور طارق پیدا ہوتے رہیں گے۔ایسے جاں شمار کہ اپنے جذبۂ جان شاری کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی معجزانہ تائید ان کو حاصل ہوگی اور اسلام کے انقلاب عظیم کے لئے وہ کار ہائے نمایاں کرتے چلے جائیں گے جیسا کہ ایک عربی شاعر إِذَا سَيدٌ مِنَّا خَلَا قَامَ سَيْدُ نے کہا ہے۔کہ جب ہمارا ایک سردار اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو ویسا ہی ایک اور سردار کھڑا ہو جاتا ہے اس کی جگہ لینے کے لئے۔تو جن جماعتوں میں (اُمتِ مسلمہ کی ) ہمیں تنزل یا کمزوری نظر آتی ہے تو ساتھ ہی یہ بھی نظر آتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو بھول گئے تھے اور جانے والوں کے قائم مقام کم از کم اس قسم کے نہیں تھے جس قسم کے کہ جانے والے تھے ویسے تو جب ضرورت بڑھی تو خدا تعالیٰ کی تائید نے ہر کام کرنا تھا ایسے لوگوں کے لئے تائیدات الہی بھی بڑھ گئیں اور جہاں تلوار سے اسلام کو زک پہنچانے کی کوشش کی گئی وہاں خالد جیسے محمد بن قاسم جیسے اور طارق جیسے اسلام کو خدا نے دیئے ، لیکن اسلام کی طاقت اور اسلام کی یہ خوبی کہ اس میں اثر پیدا کرنے کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے اس کا تعلق تلوار سے نہیں، اس کا تعلق ان اخلاق سے ہے کہ جو خلق عظیم کی پیروی کے نتیجہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والوں کی زندگی میں پیدا ہوتا ہے۔اس کا تعلق اس نوراور حسن سے ہے جو اسلام میں پایا جاتا ، جس پر فدا ہونے والے ان پروانوں سے کہیں زیادہ ایثار اور قربانی کا جذ بہ رکھتے ہیں جو شمع پر اپنی جان دیتے ہیں اور نور خدا سے لے کر نور پھیلانے والےاور حسن سے خوبصورتی حاصل کر کے دنیا کی فضا کو خوبصورت بنانے والے اور معاشرہ میں حسن پیدا