خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 389 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 389

خطبات ناصر جلد نهم ۳۸۹ خطبه جمعه ۱۵ جنوری ۱۹۸۲ء تو خدا تعالیٰ کا حکم ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز پہ بھی چل رہا ہے۔بڑی عظیم ہستی ہے وہ اور توازن کو اس نے قائم رکھا ہے۔جب توازن کو وہ متصرف بالا رادہ ختم کر دیتا ہے اور کہتا ہے توازن نہ رہے، خاص قسم کی ہلاکت پیدا ہو جاتی ہے اس کا ئنات میں۔جو خدا میں نے ابھی بتا یا قیوم ہے، القیوم اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہر شے کا جو دوسری شے سے تعلق ہے اس کو وہ قائم رکھتا ہے۔ابھی میں نے جو مثال دی تھی اور اس کے نتیجے میں ہر شے کی پیدائش کا جو مقصد ہے اسے وہ پورا کرتا ہے۔مثلاً اس نے ایک بوٹی بنائی جو کسی خاص مرض کی دوا تھی۔تو اس خاصیت کو قائم رکھنا اس بوٹی میں ، یہ ہر آن ربوبیت کے جلوے اس چھوٹی سی بوٹی پر ظاہر ہوتے ہیں اور اس کے ان خواص کو وہ قائم رکھتا ہے۔انسان کو خدا تعالیٰ نے ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا اور ہر چیز کو اس مقصد کے حصول کے لئے مد اور معاون بنا کے پیدا کیا۔صحت اچھی ہو ، دماغ چوکس ہو ، قلب سلیم ہو ، سینہ میں نور ہو۔تمام اشیاء اس کائنات کی اس طرف انسان کو لے جانے والی ہیں لیکن اس کا اپنا نفس جو ہے اس کے اندر ایک طاقت رکھی جو بغاوت کرے کائنات سے اور کائنات کے رب سے ، رب العلمين سے اور اپنے لئے جہنم کی راہوں کے دروازے کھولے اور ان پر وہ چلنا شروع کر دے۔جو نیکی کرتے ہیں یعنی جو مقصد ہے ساری اس کائنات کی پیدائش کا وہ یہ ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ (التريت : ۵۷) میرے بندے بہنیں اور ہر چیز کا ئنات میں پیدا کر دی اس مقصد کے حصول کے لئے اور ہر طاقت اور صلاحیت انسان کو دے دی اس مقصد کے حصول کے لئے دے دی اور اس کے لئے فرمایا۔سَابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (الحدید: ۲۲) اے لوگو! تم اپنے رب کی طرف سے آنے والی مغفرت اور ایسی جنت کی طرف تیزی سے بڑھو ( سَابِقُوا ) یعنی ساری اشیاء کا استعمال اس طرح کرو، اپنی صلاحیتوں کی نشوونما، پرورش اس طرح کرو، ان کا استعمال اس طرح کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مغفرت اور ایسی جنت کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہو جس کی قیمت ووسعت،