خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 388 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 388

خطبات ناصر جلد نهم ۳۸۸ خطبه جمعه ۱۵ ؍ جنوری ۱۹۸۲ء متصرف بالا رادہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے، وہ قیومیت، وہ ربوبیت ہے، یہ نہیں کہ ایک اصول بنادیا اور پھر خدا تعالیٰ علیحدہ ہو گیا اپنی مخلوق سے۔ذرے ذرے پر اس کا تصرف ہر آن جاری ہے اور اس کی دلیل اس نے ہمیں سمجھانے کے لئے یہ دی، قائم کی۔ایک بیمار ہے، ایک اچھا ڈاکٹر ہے، صحیح تشخیص کرتا ہے۔اس کی تشخیص کے مطابق جو دوا ہے اس کو اثر کرنا چاہیے، وہ نہیں کرتی۔اس لئے نہیں کرتی ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عجیب رنگ میں اس پر روشنی ڈالی ) کہ خدا تعالیٰ حکم دیتا ہے دوائی کے خواص کو ( متصرف بالا رادہ ہے نا۔اس کا ہی ارادہ چلے گا تفصیل میں بھی ) کہ تو نے اس شخص کی بیماری کے علاج کے لئے جو تیری خواص ہیں وہ اثر نہیں کرنا نہیں کرتی ، حکم کی بندی۔اور انسانی جسم کے ذرات پر اس کا حکم نازل ہوتا ہے تم اس اثر کو قبول نہیں کرو گے۔ڈاکٹر ہے، ماہر ہے، تشخیص ہے، صحیح ہے، دوا ہے، غلط نہیں اور اثر کوئی نہیں۔پھر اس شخص کی تو بہ کو قبول کرتے ہوئے یا کسی اور نیک بندے کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ جو متصرف بالا رادہ ہے اسی دوا کے خواص کو حکم دیتا ہے کہ اب اس پر اثر کرو اور اسی بیمار کے جسم کے ذرات کو حکم دیتا ہے کہ اس اثر کو قبول کرو اور وہ اچھا ہو جاتا ہے۔میں نے بہت سے ماہر ڈاکٹروں سے بات کی کہ مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس کبھی ایسا مریض آیا کہ تم نے یقین کیا کہ معمولی مرض ہے۔یہ سوال ہی کوئی نہیں اس کے مرنے کا۔چند دنوں میں اچھا ہو کر چلا جائے گا اور مرجاتا ہے وہ۔کہتے ہیں ہاں ، ایسا ہوتا ہے۔میں نے کہا یہ بتاؤ کہ تمہارے کبھی ایسے مریض آئے کہ تم قسم کھانے کے لئے تیار تھے کہ یہ بچ نہیں سکے گا اور وہ بیچ جاتا ہے۔انہوں نے کہا ہاں، ایسا ہوتا ہے۔ہمارے اپنے شاہدین جو مبلغین ہیں، ان میں ایک کیس تھا۔ڈاکٹر نے کہا زیادہ سے زیادہ سات دن ، آٹھ دن ، دس دن زندہ رہے گا۔کینسر کا کیس، انتہا کو پہنچا ہوا۔نظر بیکار ہو گئی ، شنوائی ختم ہوگئی ، زبان نے کام کرنا چھوڑ دیا، دماغ جو تھا وہ Coma میں چلا گیا یعنی کوئی اس میں حس نہیں تھی۔اس نے کہا لے جاؤ۔گھر میں اپنے عزیزوں میں جائے اور وہاں جا کے وہ جان دے دے اللہ تعالیٰ کے حضور اور اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دے دی۔آج بھی وہ زندہ ہے ( یہ کئی سال پہلے کی بات ہے ) اور کام کر رہا ہے۔