خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 279 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 279

خطبات ناصر جلد نهم ۲۷۹ خطبه جمعه ۲/اکتوبر ۱۹۸۱ء میں بھی نہ کریں۔میرے پاس آجاتے ہیں بعض دفعہ کہ سفارش کر دیں اور مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے۔دو تین دفعہ ایک شخص دُکھیا تھا نو جوان ، اور جماعت آئی۔یہ اس وقت کی بات ہے جب میں صدر، صدرانجمن احمد یہ تھا۔مجھے بڑا دکھ پہنچا کہ فلاں جگہ سفارش کر دیں ، فلاں جگہ سفارش کر دیں۔ایک دن میں نے ذرا غصے میں کہا۔میں نے کہا دیکھو! یہ نوجوان اس وقت اڑھائی تین سور و پیہ تنخواہ لے رہا ہے۔اگر فارغ نہ کریں تو ریٹائر منٹ کے وقت ساڑھے چھ سو، سات سو روپے اس کو ملیں گے۔اگر فارغ کر دیں تو ممکن ہے خدا تعالیٰ اس سے قربانی لے کے اس کو ثواب بھی پہنچائے اور ہر سو کے مقابلے میں ایک ہزار اس کی تنخواہ ہو جائے۔ابھی دو مہینے ہوئے یا تین ، اس کا خط آیا۔( میری تو زندگی میں ہزار ہا ایسے واقعات گزر جاتے ہیں ) وہ شروع ہی یہاں سے ہوا کہ میں اپنا تعارف کرواؤں۔جب ظالمانہ طور پر مجھے فارغ کیا گیا تو آپ نے یہ کہا تھا کہ کیا پتہ خدا تعالیٰ تم پر رحم کرے اور سوروپے کے مقابلے میں جو سور و پیہ پنشن کے وقت ہو گا (اب نہیں مل رہا ) ایک ہزار ملے۔تو سات سو پنشن کے وقت یعنی پنشن سے معا پہلے جو (Highest Pay) مجھے مل سکتی تھی وہ سات سو روپیہ تھا اور اس مہینے مجھے سات ہزار روپیل گیا اور وہ بات خدا نے پوری کر دی آپ کی ، خدا دیتا ہے۔کسی چیز میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا نا ہی نہیں۔توکل کا یہ تقاضا ہے ورنہ تو پھر قرآن کریم نے کہا وَ مَا يُؤْ مِنْ اَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ (يوسف : ۱۰۷) ایمان کا دعوی بھی ہے اور شرک کی حرکتیں بھی ہیں، ساتھ ساتھ چل رہی ہیں زندگیوں میں۔خدا تعالیٰ کو یہ پسند نہیں۔اس جماعت پر اللہ تعالیٰ نے پچھلے بانوے سال میں اتنے انعامات نازل کئے ہیں کہ جن کا حد و حساب کوئی نہیں، بیشمار۔ہمارے تو چھوٹے دماغ انسان کے ان سب کو یا د بھی نہیں رکھ سکے۔ہمیں یہ پتہ ہے کہ ہر آنے والا دن اس قدر انعام لے کر طلوع کرتا ہے ہم پر کہ ہرگز رنے والے دن کے انعامات ہم بھول جاتے ہیں۔پھر اس کا شکر الحَمدُ لِلَّهِ ، پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔اس لئے ہر احمدی یہ یاد رکھے وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: ۴) جو خدا تعالیٰ پر توکل کرے گا صحیح معنی میں حقیقی رنگ میں اسے اللہ کے سوا کسی اور کی ضرورت نہیں۔