خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 272
خطبات ناصر جلد نهم ۲۷۲ خطبه جمعه ٫۲اکتوبر ۱۹۸۱ء 66 شرک عقیدے میں بھی آجاتا ہے۔شرک ، شرک میں بہت فرق ہے۔جو تعلیم جو معرفت اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل قرآن عظیم جیسی عظیم شریعت اور وحی کے ذریعے دی وہ یہ ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ (الشوری:۱۲) ایک بنیادی اعلان ہے قرآن کریم میں۔اُس جیسی اور کوئی ہستی نہیں ، نہ اپنی ذات میں اور نہ اپنی صفات میں۔اس قدر عظمتوں والا ہے کہ یہ سارا کچھ جہاں تک ہمارا خیال بھی نہیں پہنچتا یہ ایک سٹ“ کے کہنے سے ہو گیا۔کسی کو ایک جھونپڑا بنانا پڑے تو ہفتوں ، مہینوں لگ جاتے ہیں اور بہت سے مزدورا کھٹے کرنے پڑتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کو ”صمد “ ہونے کی وجہ سے ( یہ اس کی صفت ہے ) کسی اور کی احتیاج نہیں۔وہ جب کچھ کرنا چاہتا ہے کون کہتا ہے ، ہو جاتا ہے۔یہ ساری کائنات اسی طرح بنی۔یہ جود ہر یہ سائنسدان ایک وقت میں مہذب دنیا میں تھے ان کا ایک حصہ پھر خدا تعالیٰ کی طرف واپس آ رہا ہے کیونکہ ستاروں کی سائنس کے ساتھ جن کا تعلق تھا ان کو یہ بات نظر آئی ان کے مشاہدہ میں یہ آیا کہ وہ بے شمار ستارے جس کو وہ Galaxy ( سیلیکسی) کہتے ہیں یعنی بڑے بڑے قبیلے ستاروں کے، وہ ایک نامعلوم جہت کی طرف حرکت کر رہے ہیں یعنی اپنے فاصلے قائم رکھتے ہوئے وہ بے شمار ستارے جو ہیں وہ ایک جہت کی طرف حرکت بھی کر رہے ہیں۔ایک ان کی اندرونی حرکت ہے۔سورج کے گردگھومتے ہیں ستارے، اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے۔لیکن گیلیکسی ، جو قبیلہ ہے وہ اپنی اپنی جگہ پہ بھی قائم ہے اور سارے کا سارا ایک طرف حرکت بھی کر رہا ہے۔جس طرح انسانی جسم پیدل چل رہا ہوتا ہے جس وقت تو ایک حرکت اس کی مثلاً احمدنگر کی طرف ہے سارے جسم کی اور ایک حرکت ( بہت ساری اندر چیزیں ہیں ایک چیز کو لوں گا ) دوران خون کی ہے اس کے اندر۔لیکن یہ حرکت متوازی نہیں بلکہ اس میں فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے Galaxies ( گیلیکسیز ) کے درمیان۔اور ان کا یہ مشاہدہ ہے کہ جس وقت یہ فاصلہ اتنا بڑھ جائے کہ اس میں بے شمار ستاروں کی اور سُورجوں کی ایک گیلیکسی سما سکے تو وہ وہاں پیدا ہو جاتی ہے۔وہ کن ، کا آرڈر ہوتا اور اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے۔اسی واسطے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ وسعت پیدا کرنے والا ہے۔اس صفت کے جلوے مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتے ہیں لیکن اس وقت میں