خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 267

خطبات ناصر جلد نہم ۲۶۷ خطبہ جمعہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۸۱ء مثال دیتا ہوں۔میں تو بڑا عاجز بندہ ہوں۔اللہ تعالی بڑا افضل کرنے والا ہے۔پچھلے سال ہی دورے پہ میرے منہ سے یہ فقرہ نکلوایا کہ Love For All And Hatred For None ہر ایک سے پیار کرو، کسی سے نفرت نہ کرو، اتنا اثر کیا اس فقرے نے کہ ابھی مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہوا ہالینڈ میں ہمارا سالانہ جلسہ ہوا ہیگ میں ہماری مسجد اور مشن ہاؤس ہے وہاں کے مئیر کو انہوں نے بلایا۔وہ آئے۔میر کی ان ملکوں میں بڑی پوزیشن ہوتی ہے اور انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں تم احمدیوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تمہارے امام نے جو تمہیں یہ سلوگن دیا تھا کہ Love For All And Hatred For None کہ ہر ایک سے پیار کرو نفرت کسی سے نہ کرو، میں تم سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تم ہالینڈ کے گھر گھر میں یہ فقرہ پہنچا دو کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ایک فقرہ انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔ایک گھنٹے کی تقریر سوکھے گھاس کی طرح ہاتھ سے چھوڑ وزمین پر گر جائے گی۔جب تک خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو انسان کامیاب نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتے ہوئے منتظمین ان اجتماعات کا انتظام کریں اور خدا تعالیٰ کا فضل اور رحمت مانگتے ہوئے شامل ہونے والے ان میں شامل ہوں تا کہ ہم اپنی زندگیوں کے مقصد کو پانے والے ہوں۔آمین۔اس بات کی ذمہ داری کہ ہر جماعت سے چھوٹی ہو یا بڑی، نمائندہ ان اجتماعات میں آئے سوائے اس کے کہ بعض اکا دُکا استثنائی طور پر ایسی جماعتیں ہیں جس میں سارے ہی خدام ہیں بڑی عمر کا وہاں کوئی نہیں۔نئی جماعت بن گئی نوجوانوں کی۔وہاں سے کوئی انصار اللہ کے اجتماع میں ممبر کی حیثیت سے نہیں آئے گا بعض ایسے ہو سکتے ہیں کہ جو دو چار وہاں بڑی عمر کے ہیں اور ابھی خدام الاحمدیہ کی عمر کا کوئی نہیں۔اطفال اور ناصرات کی عمر کے تو یقینا ہوں گے وہ کوشش کریں کہ جن کی نمائندگی ہوسکتی ہے ، وہ ہو جائے۔ہر جماعت کی نمائندگی اپنے اپنے اجتماع میں ہونی چاہیے۔اس کی ذمہ داری ایک تو خود ان تنظیموں پر ہے لیکن اس کے علاوہ تمام اضلاع کے امراء کی میں ذمہ داری لگا تا ہوتا ہوں اور