خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 263

خطبات ناصر جلد نهم ۲۶۳ خطبه جمعه ۱۸ ار ستمبر ۱۹۸۱ء یعنی آٹھ گھنٹے لگا تار تلوار چلانے کی مشق نہ کی ہو اور آٹھ گھنٹے تلوار چلانے کے بعد وہ تھکاوٹ محسوس نہ کرے مزید لڑائی کے لئے تیار ہو۔تو ایک تیاری تو اسلحہ خریدنے کی ہے دوسری تیاری اس اسلحہ کے استعمال کی ہے۔مسلمان کے لئے تیاری ایک ایسے استعمال کی تھی کہ اپنے سے کہیں زیادہ تعداد میں دشمن اور ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج کا مقابلہ کبھی پانچ گنا زیادہ ان کی فوج انہی اٹھارہ ہزار کے مقابلہ میں جس کا مطلب یہ تھا کہ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد تازہ دم فوج سامنے آگئی۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہتے ہو کہ تڑپ بڑی تھی ، ہم بھی پکے مومن ہیں مگر مجبوریاں ایسی آگئیں کوئی بچہ بیمار ہو گیا۔بہانہ جو طبیعت ، گھر خطرے میں پڑ گیا، یہ ہو گیا وہ ہو گیا اور نہ پیچھے رہ نہ جاتے۔خدا کہتا ہے تم جھوٹ بولتے ہو اور دلیل یہ کہ اگر تمہیں خواہش ہوتی جہاد پر نکلنے کی تو اس کے لئے ہر ممکن تیاری کی ہوتی۔نہ تم نے اسلحہ پر مال خرچ کیا، نہ تم نے اسلحہ چلانے کی مشق کی ضرورت کے مطابق مشق ، مشق اتنی کہ ، مثلاً میں نے تیراندازی کا نام لیا ابھی ، ایک بار جب خالد بن ولید ہی قیصر کی فوجوں کے خلاف لڑ رہے تھے تو دمشق کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔قیصر کی فوج کا جو کما نڈ رتھا اس نے جہالت سے مسلمان پر رعب ڈالنے کے لئے ، یہ نہ سمجھتے ہوئے کہ مسلمان پر رعب نہیں ڈالا جاسکتا کیونکہ وہ تو صرف خدا سے ڈرتا ہے، یہ منصوبہ بنایا کہ نوجوان لڑکیوں اور راہبوں، پادریوں کو فوجی لباس پہنا کے اور ہاتھ میں نیزے دے کر اور تلوار میں لٹکا کے فصیل کے اوپر کھڑا کر دیا۔کئی ہزار مردوزن کو۔خالد بن ولید کی دور بین آنکھ مومنانہ فراست رکھنے والی تھی۔انہوں نے کہا اچھا میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو تم۔آپ نے اپنی پیادہ فوج کو پیچھے کیا اور تیراندازوں کو آگے بلا یا اور تیراندازوں کو یہ حکم دیا کہ تم یہ جو سامنے تمہارے کھڑے ہیں ہم پر رعب ڈالنے کے لئے ان میں سے ایک ہزار کی آنکھ نکال دو تیر سے۔اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں ان تیراندازوں نے ایک ہزار کی آنکھ میں نشانہ ٹھیک بٹھایا اور آنکھ نکال دی۔اس کے مقابلہ میں مشہور ہے کہ ایک بادشاہ بیوقوف تھا وہ سمجھتا تھا میں بڑا بہادر، ماہر فن ہوں، جنگ جو ہوں تو مشق کر رہا تھا اور کوئی نشانہ بھی اس کاBull's eye ( بلز آئی) پر نشانہ نہ بیٹھتا تھا۔کوئی دس گزا دھر پڑتا تھا کوئی دس گزا دھر پڑتا