خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 256

خطبات ناصر جلد نهم ۲۵۶ خطبہ جمعہ ۱۱ارستمبر ۱۹۸۱ء ہو جاتے ہیں۔(الاعراف: ۲۰۴) تو حکم تھا اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ نے اعلان کروایا کہ آپ نے کامل اتباع کر لی اور اعلان دوسری جگہ کروا دیا۔اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (الاعراف: ۱۴۴) آنا اوَلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : ۱۶۴) یہ تو آپ کی ذات ہوئی نا۔جو اُسوہ بنانا ہے اور آپ کی اتباع کرنی ہے اس کے متعلق روشنی پیدا کرنے کے لئے اُمت کے دل و دماغ میں حکم ہوا فاصدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ (الحجر: ۹۵) جو وحی تیرے او پر نازل ہورہی ہے ( اوامر و نواہی کے سلسلہ میں۔یہ محاورہ ہے عربی کا ، ایک لفظ آجاتا ہے )۔جس چیز کا تجھے حکم دیا جاتا ہے اضلاغ کے معنی ہیں کھول دینا۔وہ جو پتھر کے اوپر لوہے کا ایک ہتھوڑا سا رکھ کے مارتے ہیں اور پتھر کو دوٹکڑے کر دیتے ہیں اس کے معنی بھی یہی ہیں۔اس کے معنی ہیں کھول دینا۔تو کھول کر بیان کرو۔جو وحی تم پر نازل ہوئی اسے کھول کر بیان کرو اپنے قول اور اپنے فعل کے ساتھ۔سورہ مائدہ میں کہا - يَاَيُّهَا الرَّسُولُ بَلّغ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۖ وَ إِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بلَغْتَ رِسَالَتَه (المائدة : ۶۸) اے رسول ! ( جو یہ اکٹھے ہیں دراصل الرَّسُول النَّبِي، الامي اور اقی میں آجاتا ہے محمد ) بلیغ کے معنی مفردات نے یہ کئے ہیں اسی آیت کے نیچے۔آئی إِن لَّمْ تبلغ هذا جو وحی نازل ہوئی ہے وہ کلیتا تم وضاحت سے بیان نہ کر دو، پہنچا نہ دو آ گے۔اَوْ شَيْئًا مِمَّا حُمِّلْتَ یا اپنی ذمہ داری کے تھوڑے سے حصے میں بھی اگر کوتا ہی کروتَكُنْ فِي حُكْمِ مَنْ لَمْ يُبْلِغْ شَيْئًا مِنْ رِسَالَتِہ تو اس کے اوپر حکم یہ ہوگا کہ کوئی چیز بھی نہیں پہنچائی۔یعنی پوری کی پوری وحی نے جو اوامر و نوا ہی نوع انسانی کی ضرورتوں کے لئے بیان کئے ہیں ایک ایک کر کے سارے جو ہیں وہ پہنچا نا بنی نوع انسان کو یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے۔اور اعلان یہ کیا گیا ہے کہ اگر سینکڑوں ایسے اوامر اور احکام میں سے دو بھی نہیں تم پہنچاتے تو تم نے اپنی رسالت کی جو ذمہ داری تھی جو تمہارے اوپر ڈالی گئی (محتلت ) وہ پوری نہیں کرو گے۔سورہ نور میں کہا۔فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِلَ (النور : ۵۵ ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر