خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 231 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 231

خطبات ناصر جلد نهم ۲۳۱ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء پاک اور مطہر بنا سکتا ہے اسی واسطے کہتے ہیں وَلكِنَّ اللهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ صرف اللہ پاکیزگی عطا کر سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کبھی فاعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں جو پہلی آیت میں نے پڑھی ہے اس میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے نا۔يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ - امام راغب کہتے ہیں کہ جہاں یہ ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاک اور مطہر بناتے ہیں اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جو حقیقی پاکیزگی خدا تعالیٰ عطا فرماتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عطا کرتے ہیں۔معنی اس کے یہ ہیں کہ آپ پاکیزگی ان تک پہنچانے کا واسطہ بنتے ہیں کیونکہ آپ ایسی تعلیم لائے ، ایسا نمونہ پیش کیا اور ایسی آیات لوگوں کے سامنے رکھیں۔اس لئے بطور فاعل آپ ان آیتوں میں آجاتے ہیں واسطہ ہونے کی وجہ سے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے پاک بنایا یہاں یہ مطلب ہے کہ آپ کے واسطہ سے اور آپ کے طفیل لوگ پاکیزگی اور طہارت حاصل کرتے ہیں اور کبھی احکام اوامر ونواہی کے متعلق آتا ہے قرآن کریم میں کہ یہ کام جو ہیں ، عبادات جو ہیں، احکام بجالانا جو ہے، یہ پاکیزگی پیدا کرتے ہیں۔امام راغب کہتے ہیں یہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جب وہ اعمال مقبول ہوجائیں تو ان کے ذریعہ سے انسان طہارت اور پاکیزگی خدا تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے۔حقیقی ”مرگی “ جو ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لیکن مختلف معانی میں کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا گیا ہے کہ آپ پاک کرتے ہیں، کبھی احکام کے متعلق یعنی قرآن کریم کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ تعلیم پاک کرتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ حکم دیا ہے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ (النجم : ۳۳) اپنے آپ کو پاک مت ٹھہرایا کرو۔خوف اور خطرے کا مقام ہے کہ انسان اپنے آپ کو پاک قرار دے۔اسی لئے خود کو پاکباز ٹھہرانے کی مذمت کی گئی ہے۔مفردات راغب میں بھی یہ لکھا ہے۔فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكم اس کے انہوں نے دو پہلو لئے ہیں کہ ایسا کرنا مذموم ہے اور یہ کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔دونوں چیزیں اس کے اندر آ جاتی ہیں۔تو دو عظیم رحمتیں ، رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ، اُمت مسلمہ کے لئے ، نوع انسانی کے لئے عموماً اور جماعت مومنین کے لئے خصوصاً لے کر آئے جنہوں نے ان سے فائدہ اٹھایا۔66