خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 208
خطبات ناصر جلد نهم ۲۰۸ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۱ء قرآن عظیم ہے اور قرآن عظیم نے ہمیں کہیں یہ نہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی میں سال کے کسی حصہ میں یا کسی مہینہ میں یا کسی دن مثلاً جمعہ ہے اس میں کسی وقت کے ساتھ باندھ دیا ہو اپنے فضلوں کو اس معنی میں ، ایک مختصر سا فقرہ ہے میرا لیکن اس کی وضاحت ضروری ہے آپ کو سمجھانے کے لئے ) باندھ دیا ہو اس معنی میں کہ خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہو کہ وہ شخص جو سارا سال جانتے بوجھتے ہوئے خدا تعالیٰ کے احکام کو توڑے اور اللہ کے خلاف باغیانہ زندگی گزار نے والا ہو اس امید پر کہ خدا کا وعدہ ہے کہ سال کے بعد ایک گھڑی ایسی آئے گی کہ میں اسے معاف کر دوں گا، ایسا کوئی بیان نہیں قرآن کریم میں۔نہ ایسا کوئی ذکر ہے کہ کوئی ایسی گھڑی ہے کہ جس میں اگر انسان تھوڑے سے وقت کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور اس امید پر اور اس دعوی سے جھکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس تھوڑے سے وقت میں جو کچھ اس کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس کے نتیجہ میں آنے والے سارے سال میں اس کو اجازت دے دے گا کہ جتنی مرضی تم بدیاں اور بدکاریاں کرتے رہو میں تم پر گرفت نہیں کروں گا ایسا کوئی وعدہ نہیں۔اصل لیلتہ القدر تو وہ انقلاب عظیم ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود آپ کی بعثت نے اور جو قرآن کریم نے (جو ایک کامل اور مکمل کتاب کی شکل میں اترا) بپا کر دیا۔میں نے پڑھا،غور کیا، جتنے انقلابی دور انسانی زندگی میں آئے ہیں ان پر بھی غور کیا اور پھر قیامت تک کوئی ایسا انقلاب انسان کا بپا کردہ انسانی زندگی میں نہیں آسکتا جو قرآن کریم کے عظیم انقلاب کے مقابلہ میں سمندر کے مقابلہ میں جو قطرے کی حیثیت ہے وہ حیثیت اس کی ہو، اتنی حیثیت بھی نہیں۔وقتی طور پر تو آتش فشاں پہاڑ بھی جوش مارتا اور اس کے اندرونے سے آگ نکلتی اور دھواں باہر آتا، آگ کے شعلے نکالتا ہوا وہ اپنی زندگی طاقت اور شدت کا ثبوت دیتا ہے لیکن پھر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے ختم ہو جاتا ہے۔بڑے بڑے انقلاب تاریخ انسانی نے ( بڑے بڑے انقلاب ان لوگوں کی اصطلاح کے لحاظ سے ) تاریخ انسانی میں ہمیں نظر آتے ہیں ہزاروں سال پہلے بھی ایسے واقعات ہوئے اس دور میں بھی اس صدی میں بھی مثلاً کارل مارکس کا جو انقلاب ہے وہ آیا لیکن انسان کی بحیثیت مجموعی جو زندگی ہے اس کے لحاظ سے خیر کا کوئی پہلو اس میں مجھے نظر نہیں آتا۔تو