خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 207 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 207

خطبات ناصر جلد نهم ۲۰۷ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۱ء ہر احمدی کا فرض ہے کہ قرآن کریم نے جو حدود قائم کئے ہیں ان سے باہر نہ نکلے خطبه جمعه فرموده ۳۱ / جولائی ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج جمعہ ہے ، آج رمضان مبارک کا آخری جمعہ ہے۔دو ایک دنوں تک عبادات کا گلدستہ جو ماہ رمضان نمان ہے وہ ختم ہو رہا ہے بہت سی برکتوں کے حصول کے سامان ماہِ رمضان میں اللہ تعالیٰ نے ان انسانوں کے لئے مہیا کئے جو اس کے لئے مجاہدہ کرتے رہے اور جن کے اعمال خالصہ اللہ تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے وہ اعمال کئے گئے تھے اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ان اعمالِ صالحہ کو مقبول کر لیا۔یہ سب باتیں درست ہیں اپنی شرائط کے ساتھ لیکن جو اصل تصور ہے لیلۃ القدر کا ، وہ یہ پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ نے کہ ماہِ رمضان میں ایک ایسا وقت آیا جب اللہ تعالیٰ نے قیامت تک جاری رہنے والے ایک انقلاب عظیم کی ابتدا کی اور وہ دنیا جو اندھیروں اور ظلمات میں سانس لے رہی تھی ان کے لئے نور کے سامان مہیا کرنے کا انتظام کیا اور یہ انتظام کیا اللہ تعالیٰ نے انْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (البقرة : ۱۸۶) قرآن کریم کی شریعت اتار کے۔تو جو انقلاب عظیم نوع انسانی کی زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت کے ساتھ بپا ہوا اس کا ”دستور“