خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 204 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 204

خطبات ناصر جلد نهم ۲۰۴ خطبہ جمعہ ۲۴ / جولائی ۱۹۸۱ء میں نازل ہوئی نہیں قبول کروں گا جب تک کہ تم دعا کے ذریعہ سے میرے فضل اور میری رحمت کو حاصل کر کے وہ ہزاروں لاکھوں رخنے اور سوراخ جو تمہارے اعمال میں ہوتے ہیں اور اس قابل نہیں چھوڑتے تمہارے اعمال کو کہ قبول کئے جائیں ان کے اوپر دعا کے ذریعہ سے میری مغفرت کی چادر نہ ڈالو۔میں خود ہی چادر ڈالوں گا ان پر اگر دعا تمہاری قبول ہو جائے گی اور تمہارے اعمال کو اس قابل سمجھ لوں گا کہ میں انہیں قبول کر لوں لیکن یہ دونوں اپنی اپنی جگہ بیان ہیں، حکم نہیں۔حکم یہ ہے اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُم دعائیں کرو۔میں دعاؤں کو قبول کروں گا۔اور یہ دس دن جیسا کہ میں نے بتایا خاص طور پر دعاؤں پر زور دینے کے لئے ہیں کیونکہ ایک خاص سلسلہ اعمالِ صالحہ کا رمضان کے آخری دن ختم ہونے والا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے کہا ان دنوں میں خاص طور پر دعائیں کر کے میرے فضل کو اور میری رحمت کو اور میری مغفرت کو جذب کرو تا کہ جو تم نے اس مہینہ میں خاص طور پر کوشش کی ہے میرے پیار کو حاصل کرنے کی ،اس میں تم کامیاب ہو جاؤ۔یہ دس دن چونکہ خاص طور پر دعاؤں کے ہیں اس لئے دعا خود نیکیوں کا سرچشمہ بنتی ہے۔یعنی ایک تو قبولیت ہے۔دوسرے ہدایت کے نئے راستے اللہ تعالیٰ انسان پر کھولتا ہے دعا کے نتیجہ میں۔یا بہت سی تکلیفیں ہیں۔کمزوریاں ہیں، تکالیف ہیں، پریشانیاں ہیں ، دکھ ہیں ، گھبراہٹیں ہیں وہ دعاؤں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے۔اس وقت جیسا کہ اخبار پڑھنے والے یا سننے والے جانتے ہیں اُمت مسلمہ انتہائی پریشانی کے ایام میں گزر رہی ہے۔خانہ جنگیاں مسلم ممالک کے اندر۔مسلم ممالک کی باہمی لڑائیاں اور اب یہ نظارہ پچھلے چند ہفتوں میں آگیا کہ جس قوم کو اللہ تعالیٰ نے مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کہا تھا ، انہوں نے نوے سیکنڈ میں عراق کا جوہری ری ایکٹر تھا اسے جا کے اڑا دیا اور جس وقت وہ چھ سات سو میل واپس آئے ہیں اپنے گھر کو پہنچنے کے لئے تو صحیح یا غلط یورپین اخباروں نے امریکن اخباروں میں لکھا ہے کہ ڈرے ہوئے تھے کہ راستے میں مسلمان ممالک کی ہوائی طاقت جو ہے وہ روکے گی ہمارے جہازوں کو واپسی پر لیکن ایک جہاز بھی نہیں اٹھا ان کے مقابلہ میں۔اور اب ظالمانہ،