خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 187 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 187

خطبات ناصر جلد نهم ۱۸۷ خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۸۱ء پس ایک عہد تو اس رمضان میں، بنیادی عہد بن گیا نا مومن بننے کے لئے۔ہر احمدی کرے کجی ہو یا نہ ہو یعنی بعض دفعہ Unconscious Mind اس کو علم بھی نہیں ہوتا اور وہ ہیر پھیر والی بات کر جاتا ہے کہ میں ہمیشہ سچی بات کروں گا۔اور نویں بات یہ ہے کہ اپنی پوری توجہ یعنی ایک بڑا مخلص سارا کچھ ہوتا ہے لیکن بیچ میں تو جہ بٹ جاتی ہے۔توجہ نہیں ہے۔اعلان یہ ہے اپنی پوری توجہ دین پر ہمیشہ مرکوز رکھوں گا۔جس کا مطلب یہ ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کمانی نہیں۔یہ مطلب ہے کہ دنیا کمانے کے بعد دنیا کو اس طور پر خرچ کرنا ہے جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ جس طور پر خرچ کیا جائے۔حسنات دنیا بھی حسنات آخرت کے لئے حاصل کی جائیں۔اور دسویں بات یہ ہے کہ شرک جو ہے وہ ایک موٹا شرک ہے۔بت پرستی کرنا، ایک نیم موٹا شرک ہے۔قبر پہ جا کے سجدہ کر دینا۔بعض شرک اس سے بھی کم ظاہر ہونے والے ہیں۔اپنے نفس کو کچھ سمجھنے لگ جانا خدا کے سامنے اور اپنے علم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تفصیل سے بتایا ہے غرور کرنا، اپنے حسن پر تکبر کرنا ، اپنے جتھے پر ناز کرنا وغیرہ وغیرہ ساری شرک کی باتیں ہیں۔ایمان باللہ توحید پر مضبوطی سے قائم ہونا ، شرک کی ہر قسم کی فنا کا تقاضا کرتی ہے اور یہاں یہ بات بتائی گئی ہے کہ مومن کے لئے ضروری ہے اگر وہ قرآن کریم کی بشارتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔میں یہ بتارہا ہوں کہ شرک کی کوئی رگ باقی نہ رہے کیونکہ جو اس کے لئے مجاہدہ کرنا پڑتا ہے اس کے لئے سوچنا پڑتا ہے اس کے لئے چوکس رہنا پڑتا ہے اس کے لئے دعائیں کرنی پڑتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔گیارھویں یہ کہ غیر اللہ سے، انسانی وجود کے سارے احساس مُردہ ہوں غیر اللہ کے لئے۔اور سارے احساس اللہ کے لئے زندہ ہوں۔اتباع وحی الہی سے یہ میں نے نکتہ اٹھایا ہے۔صرف وحی الہی اور احکام الہی سے زندگی کا خمیر اٹھے۔