خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 164

خطبات ناصر جلد نهم ۱۶۴ خطبہ جمعہ ۲۶ / جون ۱۹۸۱ء زندگی دی اور ڈاکٹر اس کو دن میں پانچ دفعہ انجیکشن لگاتے ہیں یادوائی دیتے ہیں یا کینسر کا بیمار ہے وہ کہتے ہیں اتنے اتنے وقفے کے بعد ایک دن میں چار خوراکیں دوائی کی کھاؤ ، روزہ رکھنے کا سوال ہی نہیں اس کے لئے اور چند سالوں کے بعد اس کی وفات ہو جاتی ہے۔یہ دوسری قسم ہے اور یا ایسا عذر ہے جو سال بھر اس کو روزہ نہیں رکھنے دے گا چونکہ اگلے سال سے پہلے پورے کرنے تھے نا اس واسطے اس کے روزے نہیں رکھے یعنی اس ماہ رمضان کے روزے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیئے۔مثلاً ایک حاملہ ہے، حاملہ کے لئے روزے رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ایک حاملہ ہے جس نے بچہ جننے کے بعد دودھ بھی پلانا ہے اپنے بچے کو ، دودھ پلانے والی ماں نے روزہ نہیں رکھنا۔تو سال گذر گیا ممکن ہے اس سے بھی زیادہ زمانہ گذر جائے لیکن ایک سال تو یقیناً گذر گیا نا۔رمضان میں وہ حاملہ ہے، چھ مہینے کے بعد اس نے بچہ جنا، دودھ پلانا شروع کر دیا وہ اگلے رمضان تک کے جو گیارہ مہینے ہیں ان میں وہ روزہ رکھنے کے قابل نہیں ہوئی ، یہ اجازت اس کو ملی ہے۔اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ بھی اس کے روزے نہیں رکھیں گی اور نہ روزے پورے کریں گی بعد میں۔اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے شریعت کی بنا آسانی پر، ئیسر پر رکھی ہے عسر پر نہیں رکھی اور ہمیں دعا بھی سکھائی وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ (البقرة : ۲۸۷) اس کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ ہمارے اوپر ایسا بوجھ ڈال دے جس کے اٹھانے کی اس نے ہمیں قوت ہی نہ عطا کی ہو خدا تعالیٰ تو ایسا کر ہی نہیں سکتا اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم تیرے دین کے احکام کی ایسی Inter-Pretation (انٹر پر ٹیشن ) ایسی تفسیر نہ کر لیں کہ اس پر عمل مالا يطاق بن جائے ہمارے لئے ، ہمیں فراست عطا کر کہ تیری مرضی کے مطابق ہم تیرے احکام کو بجالانے والے ہوں اور مالا طاقة لنا نہ ہو بلکہ بشاشت اور شرح صدر کے ساتھ ہم تیرے احکام کو پورا کرنے والے ہوں۔ساتویں بات یہاں یہ بتائی گئی ہے کہ تمہیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے جو تمہارے پیدا کرنے