خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 156 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 156

خطبات ناصر جلد نهم ۱۵۶ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۱ء یہ تو نہیں کہا فلاں شعبۂ زندگی میں اس واسطے تمام شعبہ ہائے زندگی میں بالا دستی تمہیں حاصل رہے گی۔اِن كُنتُم مُّؤْمِنِینَ ایک شرط لگائی ہے بڑی ضروری شرط ہے پہلے بھی بیان میں نے کیا ہے اس کو۔تو یہ چھ بشارتیں قرآن کریم سے میں نے اٹھائی ہیں۔ویسے بہت بشارتیں ہیں قرآن کریم میں۔اور اب میں ختم کرتا ہوں بہت ہی لطف دیتی ہیں یہ آیات۔سورہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا (السجدة : ١٩) مومن اور فاسق ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔میں نے فاسق ، کافر ، ظالم کا بھی بتایا تھانا کہ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔مومنوں کا بھی بتایا تھا۔اس آیت میں یہ ہے کہ تم یہ اچھی طرح یا درکھو، پلے باندھ لو اپنے کہ خدا کا سلوک مومن اور کافر سے ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔بڑا عجیب اعلان ہے۔مومن اور فاسق میں اللہ تعالیٰ نے ایک نمایاں فرق پیدا کیا ہے اور قرآن کریم نے اس کو بیان کر دیا ہے جس کی بعض مثالیں میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں۔یہ ایک آیت ہے۔سورۃ القلم میں تین آیتیں ہیں بڑی عظیم ، بڑا عظیم اعلان ہوا ہے ان میں۔اس کے اوپر میں اس خطبے کو ختم کروں گا۔سورۃ القلم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّتِ النَّعِيمِ - أَفَنَجْعَلُ وقفة الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ - مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ۔(القلم : ۳۵ تا ۳۷) یقیناً متقیوں کے لئے اپنے رب کے پاس نعمت سے پُر باغات ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کیا ہم مسلمانوں سے مجرموں کا سلوک کریں گے؟۔اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِینَ۔مَا لَكُمْ تمہیں ہو کیا گیا ہے، كيف تحكمون تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟ کیا تمہاری مجلس کا فیصلہ یا تمہارے اپنے فیصلے ہمیں اس بات پر مجبور کر دیں گے۔( گیف عربی میں تهدید کے لئے بھی آتا ہے یعنی ڈرانا کہ ہم تمہیں سزا دیں گے تمہارے فعل پر یہاں گیف بمعنی تَهْدِید کے ہے ) تمہیں ہو کیا گیا ہے کیسے فیصلے کرتے ہو تم۔کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری مجلس کا فیصلہ یا تمہارا کوئی حکم جو ہے اس کے نتیجہ میں ہم مجرموں کے حق میں ان کی اپنی دعاؤں کو قبول کر لیں گے اور جو مسلمان ہیں ان کی دعاؤں کو رد