خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 146
خطبات ناصر جلد نهم ۱۴۶ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۱ء نکال دو پچاس سال کی عملی زندگی میں دن میں بیسیوں بارشاید سینکٹروں بار انسانی زندگی میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کے یہ لمحات کس طرح گزارنے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان ہے وہ یہ کہتا ہے کہ میری زندگی کی ہر کروٹ ، اور ہر حرکت جو اس میں پیدا ہوتی ہے خدا کے لئے ہے اور یہ محض زندگی ہی نہیں ، یہ ایک مرکب ہے ، زندگی اور موت کا اور یہ جو مرکب ہے اس کو بیان کرنے کے لئے ، اس کو واضح کرنے کے لئے میں انسانی جسم کی ایک مثال دیتا ہوں یعنی زندگی کا ہرلمحہ، جس طرح زندگی سنوارنے کی کوشش کا نام ہے زندگی کا ہر لمحہ اسی طرح موت سے بچ جانے یا بچنے کی کوشش کا نام ہے۔سائنس دانوں نے تحقیق کی ہے کہ جس وقت انسانی دماغ میری اس انگلی کو حکم دیتا ہے کہ ہل، اس میں حرکت آجاتی ہے۔تو یہ ایک بجلی کی کرنٹ ہے جو Nerves ( نروز ) کے ذریعے میری انگلی تک پہنچتا ہے یہ حکم ، وہ کرنٹ دماغ سے حکم لے کر جب پہنچتی ہے انگلی تک تب یہ حرکت پیدا ہوتی ہے اور یہ حرکت Nerves ( نروز) کے ذریعے چلتی ہے اور نرو ایک مسلسل دھاگہ نہیں جو ٹوٹا ہوا نہ ہو بلکہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں نروز کے جن کے درمیان فاصلہ ہے بڑا خفیف سا فاصلہ لیکن فاصلہ ہے اور یہاں سے یہ کرنٹ بجلی کی Jump ( جمپ ) کر کے گزر نہیں سکتی۔عجیب ہے خدا کا نظام جس وقت Nerve (نرو) حکم لے کے اس مقام پر پہنچتا ہے تو وہاں ایک پل بن جاتا ہے، درمیان میں ایک Chemical ( کیمیکل ) آجاتا ہے جو دوNerves (نروز ) کے درمیان پل کا کام دیتا ہے جس پر سے گزر کے حکم آگے چلا جاتا ہے اور اس انگلی تک پہنچنے کے لئے اس حکم کو سینکڑوں، شاید ہزاروں پلوں کی ضرورت ہو اس قسم کے جو کیمیاوی پل ہیں جو بنتے ہیں اور کرنٹ کو آگے لے جاتے ہیں اور انہوں نے یہ تحقیق کر کے معلوم کیا کہ جس وقت وہ حکم گزر جاتا ہے اس پل پر سے، اسی وقت وہ پل ٹوٹ جاتا ہے اور پھر دونوں نروز کے درمیان ایک فاصلہ آ جاتا ہے اور اگر نہ ٹوٹے تو اس وقت موت واقع ہو جاتی ہے۔تو ایک معمولی سا حکم دماغ سے انگلی تک پہنچانے کے لئے ، انسان ہزاروں موتوں میں سے گزرتا ہزاروں موتوں سے بچایا جاتا ہے۔