خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 134 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 134

خطبات ناصر جلد نهم ۱۳۴ خطبه جمعه ۵ /جون ۱۹۸۱ء والا خدا ہم کلام ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے وہ بندے جن کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں، خدا تعالیٰ کے وہ بندے جن کے منصوبے خدا کے لئے اور اس کی رضا کے لئے بنائے جاتے ہیں اور وہ کامیاب کئے جاتے ہیں۔جیسا کہ میں ساری دنیا میں باہر جاتا ہوں، یہ اعلان کیا کہ وہ اکیلا تھا۔The whole world got united against him۔ساری دنیا اس کے خلاف متحد ہوگئی نا کام کرنے کے لئے اور وہ اکیلا جو تھا ایک کروڑ بن گیا ۹۲ ، ۹۳ سال میں۔تو جو فرد یا جو افراد یا جو جماعت یہ دیکھتی ہے، اپنی زندگی میں یہ مشاہدہ کرتی ہے کہ جوان کے منصوبے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں نا کام نہیں کرتا کیونکہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر وہ اسی کی ہدایت کے مطابق وہ منصوبے تیار کئے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے وہ بندے جو خدا تعالیٰ سے پیار کرتے ہیں۔اس سے زیادہ پیار جو پانی سے بھرے ہوئے سمندروں کی لہروں میں آپ کو ایک جوش نظر آتا ہے اس کے اندر اس سے زیادہ جوش والا پیار کرتے ہیں اور جتنا پیار کرتے ہیں خدا تعالیٰ سے حاصل کرنے والے پیار کے مقابلہ میں اپنے پیار کو ایک قطرہ بھی نہیں سمجھتے۔یعنی جتنا پیار کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ بے شمار دفعہ زیادہ پیار خدا تعالیٰ سے پاتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے ایک لمحہ میں بھی خدا تعالیٰ کو اپنے سے دور نہیں پایا ، ہمیشہ قریب پایا ہے، ان کو اگر دنیا کافر کہے تو دنیا کے اس فتوی کی وہ کیا پرواہ کریں گے۔اگر کریں گے تو بڑے بیوقوف ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو ہمیشہ فر است عطا کرتار ہے اور اپنے تحرب سے کبھی دور نہ کرے اور کبھی ان کے پاؤں میں لغزش نہ آئے کبھی شیطان ان پر کامیاب وار نہ کرے۔آمین۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )