خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 61
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۱ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۹ء کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے اور بندوں کو یہ بتایا کہ دیکھو میں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرف کرتا ہوں۔دوسری جگہ فرمایا :۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران :٣٢) اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو اور اُس کے پیار کو بھی اور اس کی رضا کو بھی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اُن کو کہہ دے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ میری اطاعت کرو خدا تم سے پیار کرے گا۔یہاں یہ یا درکھنا چاہیے کہ کمال اتباع ، یہاں ہے نا۔اتباع کا کمال جو ہے وہ اطاعتِ تامہ کو مستلزم ہے یعنی کامل اتباع جو ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کامل اطاعت۔اور کامل اطاعت جو ہے وہ اس کے اندر مفہوم آتا ہے عبد کا اور غلام کا ، تو یہاں بھی یہی کہا گیا کہ میرے غلام بن جاؤ۔خدا تعالیٰ تم سے پیار کرنے لگ جائے گا اور بتایا دنیا کو یہ کہ دیکھو جو میرا ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہا ماً بتایا گیا۔” جے تو میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو تو نمونہ ایک سامنے پیش کر دیا ہمارے کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی طاقتوں کے اور استعدادوں کے مالک تھے مگر ایک طاقت اور استعداد بھی دنیا کے لئے خرچ نہیں کی بلکہ ہر قوت اور طاقت اور استعداد اور صلاحیت میری رضا کے حصول کے لئے آپ نے استعمال کی اور میرے پیار کو پالیا اور اتنے بلند مقام کو پالیا کہ آپ افضل الرسل بن گئے۔رہتی دنیا تک ایک اُسوۂ حسنہ بنا دیئے گئے اور لوگوں کو کہا کہ تمہیں نا امید ہونے کی ضرورت نہیں۔ایک نمونہ تمہارے سامنے ہے۔ایک واقعہ ہو چکا کہ خدا پیار کرتا ہے اور بڑا ہی پیار کرتا ہے اور اس انسان کو دیکھو۔اس کی زندگی کو دیکھو، اس کی زندگی کے حالات کو دیکھو اور گھبراؤ نہیں تسلی پکڑو، غلطیاں کرتے ہو معافی مانگو، استغفار کرو ، تو بہ کرو، خدا کی طرف واپس لوٹو ، خدا کی رضا کے لئے نیکیاں کرو۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو، اپنے اپنے دائرہ استعداد کے اندر تمہیں بھی بے شمار بے حد و بست نعماء باری مل جائیں گی۔تیسری صفت بنیادی طور پر آپ کی یہ ہے یہ اُسی کا آگے نتیجہ نکلتا ہے جو ابھی میں نے بات