خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 741 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 741

خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۴۱ خطبه جمعه ۱۹ رستمبر ۱۹۸۰ء قرآن مجید کی لازوال و بے مثال تعلیم میں اس زمانہ کے مسائل کا بھی پورا پورا حل موجود ہے خطبه جمعه فرموده ۱۹ رستمبر ۱۹۸۰ء بمقام احمد یہ مسجد (واشنگٹن) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد قرآن مجید کی متعدد آیات سے استدلال کر کے احباب کو تلقین فرمائی کہ وہ اس امر کی پرواہ نہ کریں کہ دوسرے انہیں کیا کہتے ہیں اور کیا نہیں کہتے بلکہ فکر اس بات کی کریں کہ وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مومن بنے رہیں اور خدا کی نگاہ میں مومن وہی ہوتے ہیں جو اپنے عمل سے ثابت کر دکھاتے ہیں کہ وہ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے مصداق ہیں۔حضور نے فرمایا ہم حضرت مہدی علیہ السلام کے پیرو ہیں۔آپ کی بعثت کی غرض يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ تھی اس کی رو سے آپ لوگوں کو قرآن کا پیرو بنا کہ انہیں نئی زندگی سے ہمکنار کرنے آئے تھے۔آپ کے پیرو ہونے کی حیثیت میں ہمارا فرض منصبی یہ ہے کہ ہم روئے زمین کے ان لوگوں کو جو کالمیت کے حکم میں ہیں نئی زندگی سے ہمکنار کریں اور یہ امر ان کے ذہن نشین کرائیں کہ تم اسلام کی لازوال و بے مثال شریعت پر عمل پیرا ہو کر ہی زندہ ہو گے۔اس اہم مقصد میں ہم جبھی کامیاب ہوں گے کہ ہم قرآن کو پڑھیں اور اس کی تعلیم پر خود عمل پیرا ہوں۔اگر ہم خود اسلام