خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 663 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 663

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۶۳ خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۸۰ء۔آدمیوں کو اس کام پر لگایا ہے کہ اس کی شکل بنائیں کہ اس کے اوپر کیا کیاHeading وغیرہ آنے چاہئیں، کچھ میں نے خود بنا کر ان کو دیئے۔وہ آ گیا نمبر ایک Item۔وہ کہے گا میں نے کنڈر گارٹن کا امتحان دیا۔میرے پاس کئی خطوط آئے ہیں۔دو بچے آئے ان میں سے ایک نے کہا میں نے ۱۵۰ میں سے ۱۳۴ نمبر لئے ہیں الحمد للہ بڑا اچھا ہے ذہین بچہ دوسرے نے کہا میں نے ۱۲۷ نمبر لئے ہیں، تو ہمارے ریکارڈ کے اوپر آ جائے گا۔پھر اگلے سال وہ نہیں لکھتا تو ہم اس کا پتا کریں گے کہ پڑھائی میں اس کے اندر کوئی کمزوری تو نہیں آگئی۔آپ کو اب میں کہہ رہا ہوں کہ اگر بچے نے پہلے نہیں لکھا پاس ہونے پر تو اب لکھیں۔میں معذرت کرتا ہوں ، میں چونکہ بیمار ہو گیا اس لئے جتنے خطوط اس وقت تک پہنچے ہیں جن کے جواب جانے چاہیے تھے اس لئے نہیں جا سکے کہ میں نے ان خطوط کو محفوظ کرنے کے لئے اپنے دفتر کو کہا کہ ابھی فائل بناتے چلے جاؤ۔دوسرے میں نے یہ کہا کہ ہر بچہ جو وظیفے کا امتحان دیتا ہے پانچویں یا آٹھویں کا اور اس سرکل میں جو سرکل وظیفے کا امتحان لے رہا ہے جہاں پانچویں میں اور سرکل ہیں، آٹھویں میں اور ہیں، دسویں میں شکل بدل جاتی ہے وہ چوٹی کے تین سو بچوں میں اگر آجائے نمبروں کے لحاظ سے تو اسے میں اپنے دستخطوں سے دعائیہ جواب لکھوں گا۔کوئی کتاب اور بچے تفسیر کی کتاب تو پڑھ نہیں سکتے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی کتاب دعائیہ عبارت کے بعد دستخط کر کے اپنی طرف سے تحفہ اسے بھجوا دوں گا۔جن بچوں کو پتا لگا ہے ان کو تو بڑا شوق پیدا ہو گیا ہے۔بڑی ہمت ان کی بڑھی ہے۔جو دسویں کا بورڈ ہے، بارھویں کا بورڈ ہے، کراچی ایریا میں نویں دسویں کا بورڈ ہے، گیارھویں بارھویں کا بورڈ ہے وہاں کی شکل اور ہے ان سب کے لئے یہ تفصیل میں نے لکھ دی الفضل میں چھپ گئی۔بہتوں نے پڑھا۔کئی ایک نے نہیں پڑھا۔وہ آپ خطبہ میرا اسناد ہیں۔ایک اور پیچھے آرہا ہے پھر اور آتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔الفضل کو میں نے کہا ہے کہ روزانہ ایک چوکھٹا بنا کے پہلے صفحہ پر اور یہ عبارتیں مختصر ا دینی ہیں کہ یاد دہانی کراتے رہیں جماعت کو۔تیسری چیز جس کا میں نے اعلان کیا وہ یہ ہے کہ کوئی ذہین بچہ ایسا نہیں ہوگا جماعت کا