خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 661
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۶۱ خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۸۰ء پھورنا‘ یہ سماء الدنیا کے بالکل اس کا جو اوپر کا حصہ سرفیس (Surface ) ہے اس کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔گہرائیوں میں نہیں گئے ابھی۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جہاں تک یہ وسعتیں پھیلی ہوئی ہیں ان کا تعلق پہلے آسمان سے ہے۔إنا زَيَّنَا السَّمَاةِ الدُّنْيَا بِزِينَةِ إِلكَوَاكِب (الصفت : ( )اس سے پرے چھ اور آسمان ہیں۔تو قرآن کریم جس وقت انسان وہاں پہنچے گا اس کے چھپے ہوئے بطون انسانی عقل کو وہاں بھی روشنی دیں گے۔بہر حال دنیوی علوم پڑھنے والوں کے لئے بھی قرآن کریم راہبر اور راہنما ہے اور دینی علوم پڑھنے والوں کے لئے بھی۔اس لئے میں نے جماعت سے یہ کہا کہ ہر گھر میں تفسیر صغیر کا ایک نسخہ ہو۔اب مجھے جو میرے دماغ نے سمجھا تھا کہنے کی ضرورت نہیں ہر شخص جانتا ہوگا لیکن میں ظاہر کر دیتا ہوں۔ہر گھر میں سادہ قرآن بغیر ترجمہ کے ضرور ہو۔آپ نے بچوں کو اسی سے پڑھانا ہے اور ہر گھر میں دوسرا قرآن کریم کا نسخہ ہو تر جمہ والا تفسیری نوٹ کے ساتھ۔یہ کراچی میں میں رہا ہوں ان کو میں نے کہا۔ان کے لئے خریدنے کی ایک شکل کلب بتادی کیونکہ بہت سے، اکثریت ایسے دوستوں کی ہوگی جن کی تنخواہیں، جن کی ماہانہ آمدنی اتنی کم ہے کہ وہ نقد تفسیر صغیر کے پیسے دے کے وہ کسی مہینے نہیں خرید سکتے۔میں نے انہیں کہا کہ خریداری کے لئے کلب بنالو اس میں اپنی وسعت کے مطابق پیسے دیتے چلے جاؤ یا مقامی جماعت اکٹھی منگوا کے ان کے گھروں میں پہنچا دے یا میں انتظام کروں گا کہ مرکز بالا قساط قیمت وصول کر لے۔تفسیر کے لحاظ سے جو مختصر تفسیر صغیر میں تفسیری نوٹ ہیں نیچے اور بڑے مفید ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ بھی لکھا یا کہا وہ قرآن کریم کی تفسیر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے سورۃ کہف تک ( کہف کو شامل کر کے ) جن آیات کے متعلق جو آپ نے اپنی کتب میں لکھ کے تفسیر کی ہے وہ پانچ جلدوں میں چھپ چکی ہے۔تو تفسیر صغیر کے بعد اگلا دور خریدنے کا ان پانچ ( کا ہے ) جو چھپ چکی ہیں اور جو آگے چھپیں گی انشاء اللہ ان کی تیاری ہو رہی ہے وہ ہر گھر میں ہونی چاہیے۔اس کو میں ہر لحاظ سے برکتوں سے بھی عملی جدو جہد کے لحاظ