خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 617 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 617

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۱۷ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء کے، یہ وکیل کے معنے ہیں، ہر شے کے تمام امور کے لئے وہ کافی ہے یعنی اگر علم ہو اور قدرت نہ ہو تو پھر بھی تو ربوبیت نہیں ہو سکتی۔تو ہمیں بتایا گیا کہ اگر تم غور کرو تو تمہیں خود یہ کا ئنات بتائے گی کہ اس نے پیدا کیا کے علم میں اس کا اندرونہ اور بیرو نہ ہے اور عَلى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ہر شے کے تمام امور کے لئے وہ کافی ہے۔جو کام وہ شے خود نہیں کر سکتی اللہ تعالیٰ اس کے لئے کرتا ہے یعنی ربوبیت اپنے طور پر تو کوئی چیز نہیں کر سکتی جب تک پیچھے سے متصرف بالا رادہ ہستی کے احکام نازل نہ ہوں۔جیسا کہ ، ویسے ضمنی میں ایک مثال دے دوں۔قرآن کریم نے کہا کہ درخت کا ہر پستہ خدا کے حکم سے گرتا ہے یعنی اس قدر ذاتی تعلق رکھنے والا ہے اللہ تعالیٰ اور صرف انسان سے نہیں بلکہ اپنی ہر مخلوق ہے۔وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلُ میں یہی مضمون بتایا ہے۔انسان کو کہا کہ تجھے تو بڑی رفعتوں کے لئے ہم نے پیدا کیا تھا، بڑے اپنے پیار کے لئے تجھے پیدا کیا تھا، اپنی رضا کی جنتوں کے لئے ہم نے پیدا کیا تھا جو تیری خدمت کے لئے ہم نے چیزیں پیدا کیں ان سے بھی ہمارا گہرا تعلق ہے اور ہر پہلو ان کی زندگی کا ، ہر ذرہ ان کے وجود کا ان کا ہمیں علم ہے، جس چیز کی بھی کامل نشو و نما کے لئے ضرورت تھی اس کا ہمیں علم ہے اور ہم اس کے لئے سامان پیدا کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے ، اس کی نشو و نما کامل ہو اور اس کے نتیجہ میں یہ ہمیں نظر آتا ہے کہ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِى اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ کہ اللہ تعالیٰ کی جو صنعت ہے اس میں ہر چیز اپنے کمال کو اور اپنی مضبوطی اور استحکام کو پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔یہ جہاں ہمیں کوئی شخص سائنس دان کہہ سکتا کہ انسان کے جسم کے اندر اکثر ذرے تو وہ بنتے ہیں جو کھانا ہم کھاتے ہیں ناں، ہماری غذا سے نظام ہضم جو ہے وہ ایسے ذرے بناتا ہے جو ہمارے بدن کا حصہ بن جاتے ہیں تا کہ وہ ذرے جو بوڑھے ہو گئے کچھ عرصے کے بعد دو دن بعد ، تین دن کے بعد ان کو ایک اور نظام باہر نکال دے اور ان ذروں کو ان کی جگہ رکھ دے۔جس طرح آج کل انہوں نے بنایا ہوا ہے ناں پیس میکر (Pacemaker)، وہ دل کی حرکت کو کنٹرول کرنے کے لئے ، اس کی اپنی ایک عمر ہے وہ جب ختم ہو جاتی ہے پھر ایک اور اس کے اندر رکھ دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اس میں بھی شان ہے کہ اس نے زندہ غدودوں کو صنف احسن دیئے