خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 556 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 556

خطبات ناصر جلد هشتم خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۰ء - لگتے ہیں وہ حق تلفی ہے۔لغت کے لحاظ سے بھی ظلم کے ایک معنی حق تلفی کے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ حدود کی تم عظمت کو نہیں پہچانتے اور ان کو توڑتے ہو، عدوان کرتے ہو اور بنی نوع انسان کے جو حقوق قائم کئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو نظر انداز کرتے ہو۔اگر تم ایسا کرو گے تو یاد رکو فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارا وہ لمبا زمانہ نہیں ہے جو تمہاری ان حرکتوں اور جہنم میں جانے کے درمیان ہو۔اتنا لمبا زمانہ جہنم کا ، اس کے مقابلے میں ۳۰، ۴۰ سال اس دنیا کی لذتیں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتیں۔وَ كَانَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرًا اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسان چیز ہے یہ ہمارے لئے۔دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس چیز سے نہیں روک سکتی کہ اگر تم خدا کی حدود کی بے حرمتی کرو اور انسانوں کی حق تلفی کرو اس حق کی جو خدا نے قائم کیا ہے تو خدا کے قہر کے عذاب سے بچ سکو۔یہ معمولی گناہ نہیں۔بڑی وضاحت سے ہمیں بتایا گیا کہ بڑا خطرناک گناہ ہے۔ہم پر یہ واضح کیا گیا ہے میں بعض احمدیوں کے بھی بعض ایسے کیسز (Cases) ہیں انہی کی وجہ سے میرے دل میں یہ دکھ پیدا ہوا کہ میں مسئلہ بیان کروں کہ کورٹ میں جا کے فیصلہ لے لینا تمہیں یہ حق نہیں دیتا کہ دوسرے کا مال کھا جاؤ۔کیونکہ کورٹ کے سامنے تو مرنے کے بعد تم نے پیش نہیں ہونا۔جس کے سامنے پیش ہونا ہے تم نے ، وہ سب طاقتوں کا مالک ہے جس نے یہ تمہیں آج بتاد یا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نارا کہ اس کی بھڑکائی ہوئی سے پھر تم بچ نہیں سکتے اگر تم عدوان اور ظلم کی راہوں کو اختیار کرو گے۔اسے سامنے رکھو اور جہاں تک ممکن ہو جہاں تک تمہاری عقل اور فراست تمہاری ہدایت کے سامان پیدا کرے ایک ڈھیلہ بھی کسی کا کھانے کی جرأت نہ کرو۔ایک کھجور غلط اٹھا لی تھی ایک صحابی نے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھنکوا دی۔اس سے منع کیا۔آپ نے فرمایا جو ایک کھجور کا بھی غین کرتا اور ناحق اور باطل کھاتا ہے وہ جہنم میں جائے گا۔اس میں چھوٹے اور بڑے مال کا نہیں سوال۔اس میں ایک پیسے یا ایک کروڑ روپے کا سوال نہیں۔سوال ہے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کا ، خدا کہتا ہے اگر تم میری نافرمانی کر کے، میرے بندوں کو دکھ دے کے، ان کے کے لئے ایک قسم کے قتل کا منصوبہ بناؤ گے تو جہنم میں جاؤ گے اس سے بچ نہیں سکتے۔اللہ تعالیٰ